آج (ہفتہ) انسداد پولیو کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ world polio day روٹری انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ڈاکٹر جوناس سالک کو خراج تحسین کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے پولیو ویکسین ایجاد کی تھی۔ رواں سال کا موضوع “ایک دن، ایک توجہ: پولیو کا خاتمہ” ہے۔
پاکستان کے لیے یہ دن خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں 1988 کے بعد سے پولیو کیسز میں 99.9 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان اور افغانستان وہ صرف دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس تاحال مقامی ہے۔ رواں برس پاکستان میں پولیو کا 7واں کیس اسی ہفتے سامنے آیا۔ کراچی ایسٹ میں 6 ماہ کے بچے میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ یہ تقریباً دو سال بعد کراچی کا پہلا کیس ہے۔
world polio day: عالمی کوششیں کہاں کھڑی ہیں؟
اولائنکا حکیم بابالولا روٹری انٹرنیشنل کے صدر ہیں۔ ان کے مطابق روٹری اب تک عالمی سطح پر 3 ارب ڈالر سے زائد کا تعاون کر چکی ہے۔ اس رقم میں پاکستانی اراکین کے 13 لاکھ ڈالر بھی شامل ہیں۔ ان فنڈز سے پاکستان میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ 1988 میں 125 ممالک میں 3 لاکھ 50 ہزار بچے متاثر ہوتے تھے۔ آج وائرس صرف دو ممالک تک محدود ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج کیا ہے؟
خیبرپختونخوا میں world polio day کی مرکزی تقریب خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں ہوئی۔ اس کا اہتمام ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اور آئی پی ایچ نے مشترکہ طور پر کیا۔ صوبائی سیکرٹری صحت مطیع اللہ خان نے صدارت کی۔ کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالجلیل خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یونیسیف، ڈبلیو ایچ او، روٹری انٹرنیشنل، گیٹس فاؤنڈیشن اور فرنٹ لائن ورکرز بھی شریک ہوئے۔ دی نیوز کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق شرکا نے ویکسین سے انکار اور غلط معلومات کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ صحت کی گزشتہ خبر یہاں پڑھیں۔
ماہرین کے مطابق جب تک ہر بچے تک ویکسین نہیں پہنچتی، پولیو کے خاتمے کا خواب ادھورا رہے گا۔ اس میں سب سے اہم کردار والدین کے اعتماد کا ہے۔
مظفرآباد: 18.1°C، صاف | روزنامہ پرل ویو