پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار مورچے میں — angoor adda attack 15

انگور اڈہ میں شہری کی شہادت کے بعد پاک فوج کا افغان طالبان چوکیوں پر جوابی حملہ

جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں angoor adda attack کے بعد صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے فائر کیے گئے مارٹر گولے نے بازار اور قریبی گھروں کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں ایک شہری شہید ہوا ہے۔ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پاک فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار افغان طالبان کی کئی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مارٹر گولہ ایک رہائشی مکان پر گرا تھا۔ اس سے کئی دکانیں بھی متاثر ہوئیں۔ ضلعی انتظامیہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد دی گئی ہے۔ علاقے میں سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

angoor adda attack: جوابی کارروائی کی تفصیل

پاک فوج کی جوابی کارروائی میں سرحد پار قائم کئی چوکیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے ردعمل میں کی گئی۔ اس کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی اشتعال انگیزی کا جواب دینا تھا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جوابی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔

انگور اڈہ میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔ رواں برس اپریل کے آخر میں بھی یہاں مارٹر گولہ باری کی اطلاعات آئی تھیں۔ فروری میں دونوں جانب کشیدگی کے دوران جھڑپوں کی خبریں آئی تھیں۔ اس پس منظر میں تازہ واقعہ سرحدی امن کے لیے نئی تشویش ہے۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ گولہ باری کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہوتا ہے۔ ان کے گھر اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔ امن کے لیے سرحدی کشیدگی میں کمی ضروری ہے۔ علاقے کے لوگ خوف کے بغیر اپنی روزمرہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں امن سے تجارت بھی متاثر ہوتی ہے۔ مقامی لوگوں نے حکومت سے مستقل امن کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں