اسرائیل میں israel election exit polls کے بعد ووٹنگ کی فائل فوٹو — پولنگ اسٹیشن میں خاتون کا بیلٹ باکس میں ووٹ ڈالنا 12

الیکشن کمیشن کا ڈیپ فیک پر سخت موقف، ووٹروں کو دھوکا دینے پر پابندی کی تجویز

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے خلاف نئے مسودہ قوانین پیش کر دیے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد ووٹروں کو دھوکے سے بچانا ہے۔ مسودے کے تحت سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر ڈیپ فیک مواد سے ووٹروں کو گمراہ کرنا ممنوع ہو گا۔ یہ مسودہ کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ فریق 20 نومبر 2026 تک اپنی آرا دے سکتے ہیں۔ ecp ai rules کا یہ مسودہ انتخابات کو شفاف بنانے کی کوشش ہے۔

مسودے میں بارہ ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ یہ ترامیم جماعتوں، میڈیا اور مبصرین کے ضابطہ اخلاق میں کی جائیں گی۔ ecp ai rules کے تحت اے آئی سے بنایا گیا یا تبدیل کیا گیا مواد واضح طور پر لیبل کرنا ہو گا۔ بغیر لیبل کے ایسا مواد نشر یا شائع نہیں کیا جا سکے گا۔ میڈیا ادارے اے آئی سے مدد لے کر بنائے گئے مواد کی درستگی کے ذمہ دار رہیں گے۔

ecp ai rules: جماعتوں پر کیا پابندیاں ہوں گی؟

سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ڈیپ فیک تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو کلپس سے کسی شخص کی شکل، آواز یا عمل کو غلط انداز میں پیش کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ کسی رہنما، امیدوار، انتخابی افسر، جج، فوجی اہلکار یا سرکاری افسر کی جعلی، توہین آمیز یا ہتک آمیز تصویر یا آواز بنانا بھی ممنوع ہو گا۔ جماعتوں کو انتخابی عمل کے دوران بنایا گیا تمام اے آئی مواد محفوظ رکھنا ہو گا۔ کمیشن کے مطالبے پر اس کی تفصیل دینی ہو گی۔ دی اسٹینڈرڈ کی تفصیلی رپورٹ میں یہ نکات درج ہیں۔

اے آئی بوٹس اور خودکار اکاؤنٹس سے جعلی مقبولیت بنانے پر بھی پابندی تجویز کی گئی ہے۔ جعلی لائکس، تبصروں اور فالوورز سے کسی امیدوار کی مقبولیت بڑھا کر پیش نہیں کی جا سکے گی۔ روبو کالز یا وائس کلوننگ سے ووٹروں سے رابطے پر بھی پابندی ہو گی۔ اگر ایسا رابطہ کیا جائے تو کال یا پیغام کے آغاز میں ہی واضح کرنا ہو گا کہ یہ مواد اے آئی سے بنایا گیا ہے۔

میڈیا اور مبصرین کے لیے کیا ہو گا؟

میڈیا اور سوشل میڈیا متاثر کن شخصیات کو بھی اے آئی مواد پر لیبل لگانا ہو گا۔ پیمرا، سوشل میڈیا پروٹیکشن ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نگرانی کریں گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ مواد ہٹانے یا درست لیبل لگانے کا حکم دیا جا سکے گا۔ انتخابی مبصرین کو بھی ڈیپ فیک اور جعلی مواد پر نظر رکھنی ہو گی۔ انھیں ایسا مواد دیکھتے ہی کمیشن کو بتانا ہو گا۔ وہ اسے آگے نہیں پھیلا سکیں گے۔

مبصرین اپنی رپورٹوں میں اے آئی سے تبدیلی نہیں کر سکیں گے۔ ان کی رپورٹیں حقیقی اور براہ راست مشاہدے پر مبنی ہونی چاہییں۔ کمیشن نے کہا ہے کہ اس کا آئینی فرض ہے کہ انتخابات ایمانداری سے ہوں۔ اسی لیے گمراہ کن اے آئی مواد کو بدعنوانی کی ایک شکل سمجھا گیا ہے۔ گزشتہ روز کی اہم خبر یہاں پڑھیں۔

یہ بات اہم ہے کہ یہ ابھی مسودہ ہے، حتمی قانون نہیں ہے۔ 20 نومبر تک آرا آنے کے بعد اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ پاکستان میں انتخابات میں اے آئی کے استعمال پر پہلا واضح ضابطہ بننے جا رہا ہے۔ ecp ai rules کا اصل امتحان اس پر عمل درآمد ہو گا۔ ووٹروں کو بھی چاہیے کہ وہ کسی بھی ویڈیو یا آڈیو کو ثبوت ماننے سے قبل اس کی تصدیق کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں