1

آزاد کشمیر میں سرکاری سکولوں کے ’’ٹھیکہ سسٹم‘‘ پر چلنے کے انکشافات، تعلیمی معیار متاثر ہونے کا خدشہ

مظفرآباد/ نیلم (ڈیلی پرل ویو ) وزیراعظم آزادکشمیر کے گڈ گورننس کے دعوے ادھورے آزاد کشمیر میں محکمہ تعلیم سب سے زاہد بجٹ اور ملازمین رکھنے والا محکمہ بچوں کو روش مسقبل دینے کے بجائے روزگار کا ذریعہ بن گیا،محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے بچوں کا مستقبل تحریک ہونے کا خدشہ، پچاس فیصد سرکاری سکول ٹھیکہ سسٹم پر چلنے لگے، تعلیمی اداروں کی کارگردگی پر سوالیہ نشان، مظفرآباد،نیلم سمیت مختلف ڈویژن بلخصوص دیہاتی علاقوں میں سرکاری ٹیچرز نے دس پندرہ ہزار روپے تنخواہ پر مقامی اہلکاروں کو سکولز ٹھیکے پر دے کر بچوں اور بچیوں کی تعلیم سے کھلواڑ کرنا شروع کر رکھا ہے، ذرائع کے مطابق مظفرآباد، نیلم کے علاوہ دیگر ڈویژن میں سکولوں میں سرکاری ٹیچرز سے مقامی مڈل اور میٹرک پاس لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی جگہ دس سے پندرہ ہزار تنخواہ پر سکول ٹھیکہ پر دے کہ ماہانہ لاکھوں روپے گھر بیٹھے ہڑپ کرنے لگے، جس سے بچوں اور بچیوں کی تعلیم پر گہرے اثرات پڑنے لگے اور اسی وجہ سے سرکاری سکول کی نسبت پرائیویٹ سکولوں کے رزلٹ میں نمایاں کمی آنے کا باعث بن رہی ہے عوامی حلقوں میں محکمہ تعلیم کی غفلت اور ناقص پالیسیوں پر شدید تشویش پائی جاتی ہے عوامی حلقوں نے وزیراعظم آزادکشمیر اور وزیر تعلیم، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ آفیسران سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے اندر ایسی اصلاحات لائی جائیں، اور تعلیمی اداروں میں ٹیچرز کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں تا کہ بچوں کی تعلیم سے کھلواڑ سے بچا جا سکے اور ایسے ٹیچرز کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے جن کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں