مظفرآباد (ڈیلی پرل ویو ) ورکنگ کمیٹی مہاجرین جموں کشمیر 1989 کے اجلاس نے آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین 1989 کی مؤثر سیاسی نمائندگی کے لیے جموں اور وادی کشمیر کی دو مخصوص نشستیں مختص کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو آئینی فورم پر نمائندگی ملنی چاہیے۔مظفرآباد میں منعقدہ اجلاس میں مہاجرین 1989 کو درپیش سیاسی، سماجی، آئینی اور معاشی مسائل سمیت مسئلہ کشمیر کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ تحریک آزادی کشمیر، پاکستان سے وابستگی اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد ہر قسم کے مفادات سے بالاتر ہے۔ شرکاء نے بیس کیمپ پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل اور حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرے۔اجلاس نے پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کشمیری عوام کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے تشکر اور محبت کے جذبات کا اظہار کیا۔ اجلاس نے شہداء اور مہاجرین 1947، 1965 اور 1971 کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کے لیے دی گئی قربانیوں کو ناقابل فراموش قرار دیا۔ورکنگ کمیٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کی زیر صدارت منعقدہ حالیہ مشاورتی اجلاس اور آل پارٹیز کانفرنس میں مہاجرین 1989 کے نمائندوں کو مدعو نہ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مہاجرین سے متعلق تمام اہم مشاورت میں ان کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔اجلاس نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ہائی پاور کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ مہاجرین جموں کشمیر 1989 کی مستقل سیاسی نمائندگی کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں جموں اور وادی کشمیر کی دو نشستیں مختص کی جائیں۔اجلاس نے مہاجرین 1989 کے لیے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں سابقہ چھ فیصد کوٹہ بحال کرنے اور مستقل آبادکاری کے لیے خصوصی مالی پیکج فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اعلامیہ میں بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے مہاجرین، پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اسے قومی مفادات کے منافی قرار دیا گیا۔اجلاس نے مقبوضہ جموں کے ضلع راجوری میں جاری کشمیری مزاحمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اپنی سرزمین اور حق خودارادیت کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ شرکاء نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔اجلاس نے پاکستان کی مسلسل سیاسی و سفارتی حمایت پر حکومت پاکستان، عوام پاکستان اور قومی اداروں کا شکریہ ادا کیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گرفتاریوں اور سیاسی کارکنوں کی قید کی مذمت کرتے ہوئے کشمیری قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مہاجرین جموں کشمیر 1989 اپنے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق کے حصول اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل