وفاقی وزیر آئی ٹی شازہ فاطمہ خواجہ — buraq ai model کا اعلان کرنے والی 3

پاکستان کا اپنا اردو اے آئی ماڈل ‘براق’ — ڈیٹا اب ملک کے اندر ہی رہے گا

پاکستان نے اپنا پہلا قومی اردو لینگویج ماڈل buraq ai model متعارف کرا دیا ہے، جو مکمل طور پر ملک کے اندر موجود سرورز پر چلے گا۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شازہ فاطمہ خواجہ نے سیول میں جاری گلوبل اے آئی اینڈ ڈیجیٹل سمٹ 2026 کے موقع پر اس کا اعلان کیا۔

وزارت آئی ٹی کے بیان کے مطابق “براق” اردو اور علاقائی زبانوں پر تربیت یافتہ ایک بڑا لینگویج ماڈل ہے۔ حکومت خودمختار کمپیوٹنگ کی صلاحیت بھی حاصل کر رہی ہے تاکہ پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا ملک سے باہر منتقل کیے بغیر پراسیس کیا جا سکے۔

buraq ai model: ‘اے آئی آخری تہہ ہے، پہلی نہیں’

وزیر موصوفہ نے ورلڈ بینک کے پینل سے خطاب میں “براق” کو چار مضبوط بنیادوں پر کھڑی “اے آئی کی تہہ” قرار دیا: نادرا کی ڈیجیٹل شناخت (10 کروڑ سے زائد تصدیق شدہ شناختیں)، اسٹیٹ بینک کا راست ادائیگی نظام، واصل نیشنل ڈیٹا ایکسچینج اور نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی۔ ان کا کہنا تھا کہ “اے آئی آخری تہہ ہے، پہلی نہیں”۔

اسی سمٹ میں پاکستان ورلڈ بینک ڈیجیٹل اینڈ اے آئی کمپیکٹ پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے جا رہا ہے۔ وزیر نے 2030 تک ایک ارب ڈالر کی اے آئی سرمایہ کاری، 10 لاکھ غیر آئی ٹی پیشہ ور افراد کی اے آئی تربیت اور 1,000 مکمل فنڈڈ اے آئی پی ایچ ڈی اسکالرشپس کا بھی اعلان کیا۔ تفصیل ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اردو صارفین کے لیے کیوں اہم ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق عالمی ویب پر اردو مواد محض 0.03 فیصد ہے، یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی اے آئی ماڈلز اردو کو اچھی طرح نہیں سمجھتے۔ buraq ai model کا مقصد اس خلا کو پُر کرنا ہے تاکہ اردو بولنے والے شہری بھی اے آئی کی سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

دوسری جانب پاکستان کی آئی ٹی برآمدات بھی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں — ستمبر میں 435 ملین ڈالر کے ساتھ یہ تاریخ کی دوسری بڑی ماہانہ رقم ہے۔ پی ٹی اے کے حالیہ اقدامات یہاں پڑھیں۔ ماہرین کے مطابق مقامی اے آئی ماڈل اور بڑھتی ہوئی آئی ٹی برآمدات مل کر پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں ایک نمایاں مقام دلا سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں