پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں dollar rates آج بھی مستحکم دائرے میں ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ روز (جمعرات 22 اکتوبر) انٹربینک میں ڈالر 276.85 روپے پر بند ہوا۔ یہ اس سے پچھلے روز کے 276.86 روپے کے مقابلے میں محض ایک پیسے کی بہتری ہے۔ انٹربینک میں بولی اور پوچھ کے نرخ 276.85 اور 277.35 روپے کے درمیان رہے۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خرید 277.45 سے 277.50 روپے جبکہ فروخت 280.15 سے 280.35 روپے کے درمیان رہی۔ مختلف ایکسچینج کمپنیوں کے نرخوں میں یہ معمولی فرق دن بھر کی طلب و رسد کا نتیجہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے آج (جمعہ) کا سرکاری اختتامی نرخ شام کو جاری کیا جائے گا۔
dollar rates کے استحکام کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟
کرنسی ڈیلرز کے مطابق روپے کے اس مسلسل استحکام کے پیچھے صحت مند ترسیلات زر ہیں۔ بہتر ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر اور مارکیٹ میں مجموعی توازن بھی اہم ہے۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر اکتوبر کے آغاز میں 21.45 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھے۔ یہ ذخائر روپے کے لیے ایک مضبوط سہارا فراہم کر رہے ہیں۔
تاجروں کی نظریں اب 26 اکتوبر کو ہونے والے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے اجلاس پر جمی ہیں۔ اس اجلاس میں شرح سود سے متعلق فیصلہ متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق پالیسی ریٹ میں ردوبدل اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ فیصلہ dollar rates کی آئندہ سمت طے کرے گا۔ تازہ ترین انٹربینک نرخ ہماری ویب کے فاریکس پیج پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
دیگر اہم کرنسیوں کی صورتحال
ڈالر کے علاوہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ بھی محدود دائرے میں ٹریڈ ہوئے۔ گزشتہ روز کے dollar rates کی تفصیل یہاں پڑھیں۔ سعودی ریال ترسیلات زر کے حوالے سے اہم کرنسی ہے اور اس کے نرخ بھی مستحکم رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی موجودہ استحکام کی کیفیت برقرار رہنے کا امکان ہے۔ یہ اس وقت تک ممکن ہے جب تک بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نہ بڑھے۔ درآمد کنندگان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ بڑی ادائیگیوں سے قبل اپنے بینک سے تازہ ترین نرخ ضرور معلوم کریں۔ اوپن مارکیٹ کے نرخ دن میں کئی بار تبدیل ہو سکتے ہیں۔
مظفرآباد: 27.5°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو