ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ pakistan inflation مالی سال 27 میں بڑھ کر 8.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ مالی سال 26 کے 7.1 فیصد سے نمایاں اضافہ ہوگا۔ بینک کی “پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ: اٹیننگ اسکیپ ویلاسٹی” رپورٹ 22 اکتوبر کو اسلام آباد میں جاری کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اجناس کی قیمتیں 2026 کے آخر تک بلند رہیں گی۔ ان سے ٹرانسپورٹ کی لاگت اور بنیادی مہنگائی کو ہوا ملے گی۔
گندم اور جلد خراب ہونے والی اشیاء کی قیمتوں کے باعث خوراک کی مہنگائی بھی بلند رہے گی۔ ال نینو موسمیاتی رجحان ایک اضافی خطرہ ہے۔ البتہ معیشت کی مجموعی تصویر میں بہتری کے آثار بھی ہیں۔ مالی سال 27 میں نمو 3.8 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ یہ مالی سال 26 کے 3.7 فیصد سے بہتر ہے۔
pakistan inflation کے ساتھ معیشت کی مضبوطیاں کیا ہیں؟
رپورٹ میں پاکستان کی حالیہ معاشی کامیابیوں کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ مالی سال 26 میں جی ڈی پی کا 2.9 فیصد ریکارڈ پرائمری مالیاتی سرپلس حاصل ہوا۔ مضبوط ترسیلات زر سے زرمبادلہ کے ذخائر بحال ہوئے۔ ایس اینڈ پی اور موڈیز نے کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کی۔ پاکستان 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کے ساتھ بین الاقوامی قرض منڈیوں میں واپس آیا۔
ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آمگابازار نے پیش رفت کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان نے استحکام کی بحالی میں حقیقی پیش رفت کی ہے”۔ “مگر فی کس حقیقی نمو تقریباً 1.6 فیصد پر اٹکی ہوئی ہے۔ تیز نمو کے لیے اصلاحات اب ناگزیر ہیں”۔ دی نیوز کی تفصیلی رپورٹ میں رپورٹ کے تمام نکات بیان کیے گئے ہیں۔
روزگار اور غربت کی تشویشناک تصویر
رپورٹ کا سب سے تشویشناک حصہ روزگار سے متعلق ہے۔ ہر سال 36 لاکھ پاکستانی ملازمت کی عمر کو پہنچتے ہیں۔ مگر “نمو روزگار پیدا نہیں کر رہی”۔ 2018 سے ہر چھ میں سے ایک نیا آنے والا بے روزگار رہ گیا۔ قومی غربت 2018-19 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 29 فیصد ہو گئی۔ ڈالر کے آج کے نرخ یہاں دیکھیں۔
تاہم امید کی کرن بھی موجود ہے۔ ساختی اصلاحات کے منظرنامے میں 6.2 سے 6.9 فیصد سالانہ نمو ممکن ہے۔ اس سے پاکستان 2050 تک ویتنام کی موجودہ آمدنی کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔ یعنی فی کس آمدنی تقریباً تین گنا ہو جائے گی۔ ماہرین کے مطابق pakistan inflation پر قابو اور یہ ہدف صرف مسلسل اور گہری اصلاحات سے حاصل ہوگا۔ اس کے لیے سیاسی عزم ناگزیر ہے۔
مظفرآباد: 27.5°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو