پشاور کا اسلامیہ کالج — kp governor rule column october 2026 11

گورنر راج: آئینی مجبوری یا سیاسی شارٹ کٹ؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو آٹھ روز ہو چکے ہیں۔ وفاق کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ ناگزیر قدم تھا۔ دوسری جانب اپوزیشن اسے صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیتی ہے۔ kp governor rule column october 2026 کے اس مباحثے میں اصل سوال یہ ہے۔ کیا گورنر راج دہشت گردی کا حل ہے، یا صرف آسان جواب؟

اس کالم کی رائے واضح ہے: گورنر راج دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آسان راستہ ہے، ایماندار راستہ نہیں۔ یہ وہ فیصلہ ہے جو اسلام آباد میں بیٹھ کر کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً اس کی قیمت پشاور، بنوں اور وزیرستان کے عام شہری ادا کرتے ہیں۔

KP Governor Rule Column October 2026 — ناکامی کا اعلان کون کرے گا؟

آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 مرکز کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ کسی صوبے میں ایمرجنسی لگا دے۔ واضح رہے کہ شرط یہ ہے کہ صوبہ دہشت گردی سے نمٹنے میں “ناکام” قرار دیا گیا ہو۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ناکامی کا فیصلہ کرنے والا خود صوبائی حکومت کا سیاسی حریف ہے۔

جب جج اور مدعی ایک ہی ہوں تو انصاف مشکوک ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آئینی ہتھیار اپنی ساخت میں ہی سیاسی استحصال کے لیے کھلا ہے۔ مزید برآں ہر استعمال اگلے استعمال کو معمول بنا دیتا ہے۔ نتیجتاً آج خیبر پختونخوا ہے، کل کوئی اور صوبہ ہو سکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے اپنی دلیل میں پیپلز پارٹی کی مثال دی۔ انہوں نے 2008 سے 2013 تک بلوچستان میں اپنی ہی حکومت کے خلاف گورنر راج لگایا تھا۔ لیکن یہ مثال ان کے خلاف بھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر اپنی حکومت ہٹانے سے بلوچستان میں عسکریت پسندی ختم نہیں ہوئی۔ تو حریف کی حکومت ہٹانے سے خیبر پختونخوا میں کیسے ختم ہوگی؟

کارساز کا سبق ادھورا کیوں ہے؟

18 اکتوبر 2007 کو کارساز میں ہونے والے دھماکوں میں 180 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کو ہلکا لینا قومی خودکشی ہے۔ اس پر کوئی دو رائے نہیں۔

لیکن کارساز کا سبق ادھورا رہے گا اگر ہم صرف طاقت کے استعمال کو یاد رکھیں۔ اس کے برعکس مقامی سیاسی جواز کو بھول جانا اس سبق کو ادھورا رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر 2000 کی دہائی سے پاکستان یہی چکر دہرا رہا ہے: کریک ڈاؤن، پھر بیگانگی، پھر مزید بھرتی۔ چنانچہ بندوق سے دہشت گرد مارا جا سکتا ہے، نظریہ نہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو وہی لوگ جیت سکتے ہیں جنہیں مقامی آبادی اپنا سمجھتی ہے۔ لیکن اسلام آباد سے مسلط کردہ حکمرانی یہ جواز پیدا نہیں کر سکتی، چاہے اس کی نیت کتنی ہی نیک ہو۔

ایماندار پیمانہ صرف ایک ہے

بلاول نے ایک پیشکش کی ہے۔ اس لیے اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر راضی ہو جائے تو ایمرجنسی ختم کر دی جائے گی۔ یہی اس کالم کا مرکزی نکتہ ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تحریک انصاف اور جے یو آئی کی شمولیت درکار ہے۔ اس کے علاوہ اسے صوبائی ملکیت درکار ہے، اسلام آباد کے فرمان نہیں۔ ایمرجنسی کی ساکھ اس بات سے نہیں پرکھی جائے گی کہ یہ کتنی سختی سے شروع ہوئی۔ بالآخر اس کی ساکھ اس سے پرکھی جائے گی کہ یہ کتنی جلدی ختم ہوتی ہے۔

جو حکومت واقعی دہشت گردی ختم کرنا چاہتی ہے۔ لہٰذا وہ صوبے کو ساتھ لے کر چلے گی، اسے نیچا دکھا کر نہیں۔ یہی فرق ہے آئینی مجبوری اور سیاسی شارٹ کٹ میں۔

کے پی کی سیاسی صورتحال پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں

بلاول کے بیان کی تفصیل دی نیوز میں ملاحظہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں