پاکستان پر سموگ کی ناسا سیٹلائٹ تصویر — lahore smog crisis پر کالم 1

سموگ کا موسم پھر آ گیا — کریک ڈاؤن کے اعداد ہوا سے کیوں نہیں ملتے؟

اکتوبر کا مہینہ آتے ہی لاہور کی فضا ایک بار پھر زہر آلود ہونے لگی ہے۔ 18 اکتوبر کو لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست رہا۔ شاہدرہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 500 کی خطرناک سطح کو چھو گیا۔ lahore smog crisis ہر سال اسی موسم میں لوٹ آتا ہے اور ہر سال وہی دعوے دہرائے جاتے ہیں۔

حکومت پنجاب کے اعداد بتاتے ہیں کہ انسداد سموگ مہم زوروں پر ہے۔ 1560 کلومیٹر سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ فضلہ جلانے پر 485 نوٹس اور 42 ہزار روپے جرمانے عائد ہوئے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 859 نوٹس اور ایک لاکھ 30 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔

10 ستمبر کو ایک ہی روز میں 1290 معائنے کیے گئے، 123 یونٹ سیل اور 11 بھٹے مسمار کیے گئے۔ 31 لاکھ 90 ہزار روپے جرمانے عائد ہوئے۔ کسانوں کو پرالی جلانے سے روکنے کے لیے 4 لاکھ 48 ہزار سے زائد وارننگ نوٹس جاری کیے گئے۔

یہ اعداد متاثر کن ہیں۔ مگر lahore smog crisis کا بنیادی سوال یہ ہے کہ جب کریک ڈاؤن اتنا وسیع ہے تو لاہور کی ہوا دنیا میں سب سے زہریلی کیوں ہے؟ صرف چار دن میں 200 سے زائد اے کیو آئی والے شہروں کی تعداد صفر سے 11 تک کیسے پہنچ گئی؟

Lahore Smog Crisis — سرگرمی بمقابلہ نتائج

مسئلہ یہ ہے کہ یہ مہم سرگرمی ناپتی ہے، نتائج نہیں۔ نوٹسوں، جرمانوں اور مسمار کیے گئے بھٹوں کی گنتی آسان ہے۔ ہوا کے معیار میں بہتری ناپنا مشکل ہے، اس لیے اس پر بات کم ہوتی ہے۔

اعداد پر غور کریں: فضلہ جلانے کے 485 نوٹس پر مجموعی جرمانہ 42 ہزار روپے یعنی فی نوٹس تقریباً 87 روپے۔ کیا 87 روپے کا جرمانہ کسی کو فضلہ جلانے سے روک سکتا ہے؟ یہ جرمانہ نہیں، رسمی کارروائی ہے۔

دوسری طرف ماہرین کے مطابق لاہور کی سموگ میں ٹریفک کا حصہ 39 سے 43 فیصد ہے۔ مگر کریک ڈاؤن کا رخ نرم اہداف کی طرف ہے: کسان، تندور، بھٹے۔ وہ دھواں چھوڑتی گاڑیاں جو روز سڑکوں پر دوڑتی ہیں، ان کے خلاف کارروائی کہاں ہے؟

صحت کا ہنگامی مسئلہ

یہ صرف ماحولیاتی بحث نہیں، صحت کا ہنگامی مسئلہ ہے۔ ایک کروڑ سے زائد آبادی 200 سے 500 اے کیو آئی والی ہوا میں سانس لے رہی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی خود ماسک اور نیبولائزر کے استعمال کا مشورہ دے رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی سے دنیا بھر میں سالانہ 70 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ لاہور کے اسپتالوں میں سانس کے امراض کے مریضوں کی تعداد ہر سموگ سیزن میں بڑھ جاتی ہے۔

سموگ کو موسمی پی آر مہم کے بجائے صحت کی ایمرجنسی سمجھنا ہو گا۔ اسپتالوں کی تیاری، صاف ہوا کا مؤثر قانون اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اصل اصلاحات کے بغیر اگلے اکتوبر میں بھی یہی کالم لکھا جائے گا۔

کالمز کی مزید تحریریں یہاں پڑھیں: گورنر راج پر کالم۔

فضائی معیار کے اعداد آئی کیو ایئر پر ملاحظہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں