کراچی کنٹینر پورٹ — pakistan economy میں برآمدات بڑھانے کے لیے بندرگاہی تجارت کی اہمیت 5

اورنگزیب کا دوٹوک پیغام: استحکام کافی نہیں، برآمدات اور پیداواری صلاحیت بڑھانا ہوگی

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ pakistan economy کو محض استحکام سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ملک کو برآمدات، پیداواری صلاحیت اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی طرف جانا ہوگا۔ ورنہ ملک ایک بار پھر معاشی بحران کے چکر میں پھنس سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور امریکن بزنس فورم کے زیر اہتمام پالیسی مکالمے میں کہی۔ مکالمے کا عنوان ‘استحکام سے ترقی تک’ تھا۔

وزیر خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ ایک خطرہ موجود ہے۔ اگر ملک دوبارہ کھپت پر مبنی ترقی کی طرف لوٹا تو معاشی بحالی پیچھے چلی جائے گی۔ یہ بحالی چار سے پانچ سال پیچھے چلی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام بحال کرنے میں پیش رفت کی ہے۔ جڑواں خسارے اصلاحات کے آغاز میں مجموعی قومی پیداوار کے 12.5 فیصد تھے۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام تک یہ 2.6 فیصد رہ گئے ہیں۔ مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 0.1 فیصد رہ گیا ہے۔

pakistan economy کی بحالی کے اعداد کیا بتاتے ہیں؟

اورنگزیب کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے برابر ہو گئے ہیں۔ بحران کے عروج پر یہ صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر تھے۔ گزشتہ سال اپریل کے بعد سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین بار بہتری آئی ہے۔ یہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے۔ دی نیوز کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے ایک بات کہی ہے۔ کاروباری اداروں کو اپنے آپریٹنگ اور آمدنی کے ماڈل بدلنا ہوں گے۔ پیداواری صلاحیت بہتر کر کے عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک شرح نمو کافی نہیں ہوگی۔ 7 سے 8 فیصد کی شرح نمو بھی کافی نہیں ہوگی اگر اس سے روزگار پیدا نہ ہو۔ خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح اس وقت تقریباً 22.7 فیصد ہے۔ اسے بڑھانا بھی ترقی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

آگے کا راستہ کیا ہے؟

وزیر خزانہ کے مطابق اصلاحات کا ایک مقصد ہے۔ ٹیکسیشن، نجکاری، قرضوں کے انتظام اور ٹیرف پالیسی میں اصلاحات سے کاروباروں کی مسابقت بہتر ہوگی۔ نجی شعبے کو سرمایہ کاری، توسیع اور روزگار پیدا کرنے کے مواقع دینا بھی مقصد ہے۔ گزشتہ روز کی کاروباری خبر یہاں پڑھیں۔

کاروباری رہنماؤں نے وزیر خزانہ کے پیغام کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ pakistan economy کے لیے اصلاحات کی رفتار ہی اصل فیصلہ کن عامل ہوگی۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی بھی اہم ہے۔ آنے والے مہینوں میں برآمدات کے اعداد ہی فیصلہ کریں گے۔ یہ اعداد بتائیں گے کہ استحکام سے ترقی تک کا یہ سفر کس حد تک کامیاب رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں