پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا ٹریڈنگ فلور — kse-100 index جمعے کو 1,549 پوائنٹس گر کر 162,374 پر بند 22

کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1549 پوائنٹس کی کمی — ہفتے کا اختتام مندی پر، سرمایہ کار محتاط

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کا اختتام مندی پر ہوا۔ بینچ مارک kse-100 index جمعے کو 1,549.44 پوائنٹس (0.95 فیصد) گر کر 162,374.87 پر بند ہوا۔ گزشتہ روز یہ 163,924.31 پر بند ہوا تھا۔ دن کے دوران انڈیکس 163,966.86 کی بلند اور 162,292.44 کی پست ترین سطح کو چھوا۔

ریگولر مارکیٹ میں کاروباری حجم بڑھ کر تقریباً 39 کروڑ 89 لاکھ حصص رہا۔ یہ گزشتہ سیشن کے 36 کروڑ 71 لاکھ سے زائد ہے۔ یعنی فروخت کے دباؤ کے باوجود سرگرمی بڑھی۔ کے ایس ای-30 انڈیکس بھی 490 پوائنٹس گر کر 47,823 پر آ گیا۔

kse-100 index پر دباؤ کی وجوہات کیا ہیں؟

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مندی کی بڑی وجوہات مشرق وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں تیل کے ٹینکروں پر حملے بھی اس میں شامل ہیں۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملے اور شرح سود سے متعلق غیر یقینی صورتحال بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔ اسپیکٹرم سیکیورٹیز کے مطابق اس ہفتے پانچ میں سے صرف ایک سیشن میں مارکیٹ مثبت رہی۔ ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ 21 میں سے 20 اسٹاکس گراوٹ کا شکار رہے۔ پرافٹ اسٹوریز کی تفصیلی رپورٹ میں ہفتہ وار جائزہ دیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ kse-100 index کی مندی کے باوجود شریعہ کمپلائنٹ اسٹاکس نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ متعدد کمپنیوں کے حصص میں تقریباً 10 فیصد تک اضافہ ہوا۔

سرمایہ کاروں کی نظریں پیر کے اجلاس پر

سرمایہ کار اب پیر 26 اکتوبر کو اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے منتظر ہیں۔ وہاں شرح سود میں ممکنہ اضافے کا خدشہ ہے۔ یہی غیر یقینی صورتحال اس وقت مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ معیشت کی گزشتہ خبر یہاں پڑھیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کار جلد بازی کے بجائے پالیسی فیصلے کا انتظار کریں۔ بروکرز کے مطابق اگلے ہفتے مارکیٹ کی سمت کا تعین مانیٹری پالیسی کے فیصلے سے ہوگا۔ عالمی تیل قیمتیں بھی اہم ہوں گی۔ اس لیے بنیادی طور پر مضبوط کمپنیوں پر توجہ دینا دانشمندی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں