17 جولائی سے ملک میں تیل کی قیمتوں کا نظام بدل چکا ہے۔ اب ڈیلی فیول پرائسنگ (daily fuel pricing) کے نام پر ہر کاروباری روز اوگرا نئی قیمت کا اعلان کرتی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ”شفافیت“ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ 88 پیسے کی اس شفافیت سے عام آدمی کو ملا کیا؟ ایک ایسا صارف جو مہینے میں 60 لیٹر پیٹرول ڈلواتا ہے۔ اس کی جیب پر روزانہ کی اس ہلچل کا اثر محض چند روپے ہے۔ اس کے بدلے میں اسے ہر صبح ایک نئی الجھن اور ہر شام ایک نئی خبر ملتی ہے۔
حقائق اپنی جگہ۔ 21 اکتوبر کو پیٹرول 88 پیسے بڑھ کر 382.02 روپے ہوا۔ ڈیزل 53 پیسے بڑھ کر 389.80 روپے فی لیٹر ہوا۔ 16 اکتوبر کو پیٹرول میں 3.63 روپے کی کمی ہوئی تھی۔ اکتوبر میں اب تک چھ بار قیمتیں بدلی جا چکی ہیں۔ قیمتوں کا تعین گزشتہ سات روز کی عالمی قیمتوں کی اوسط پر ہوتا ہے۔ اوگرا روزانہ اپنی ویب سائٹ پر نرخ شائع کرتی ہے۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کہتے ہیں کہ اس سے ”صارف کو فوری فائدہ“ پہنچتا ہے۔
Daily Fuel Pricing سے فائدہ کس کو، نقصان کس کو؟
فائدے کا دعویٰ اپنی جگہ، مگر نقصان کی فہرست طویل ہے۔ آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن اور ٹرانسپورٹ گڈز ایسوسی ایشن دونوں نے اس نظام کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹر کہتے ہیں کہ روز بدلتی ڈیزل قیمت پر کرایہ طے کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ہزاروں کلومیٹر کی نقل و حمل میں معمولی سی تبدیلی بھی ان کے منافع کو کھا جاتی ہے۔ انہوں نے ہڑتال کی دھمکی بھی دی تھی۔ یہ دھمکی حکومتی یقین دہانی پر وقتی طور پر ٹل گئی۔ ڈیلرز کا شکوہ ہے کہ روزانہ قیمت بدلنے سے اسٹاک کا حساب بگڑتا ہے۔ پمپ پر گاہک سے جھگڑا ہوتا ہے کہ دکھائی گئی قیمت آج کی سرکاری قیمت ہے بھی یا نہیں۔
اور عام صارف؟ وہ بیچارہ تو ہر صبح اخبار کھول کر سوچتا ہے کہ آج ٹینکی بھرواؤں یا کل کا انتظار کروں۔ یہ کوئی معاشی پالیسی نہیں، یہ ذہنی اذیت ہے۔ جو بچت روزانہ کی کمی سے ہوتی ہے، وہ اگلے ہی دن کی بڑھوتری میں واپس چلی جاتی ہے۔ اکتوبر میں ہی پیٹرول کبھی 390.23 روپے ہوا تو کبھی 382.02۔ اس اتار چڑھاؤ میں نہ گھر کے بجٹ کی منصوبہ بندی ممکن ہے، نہ کاروبار کی۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس سارے ڈرامے کے پیچھے اصل ڈاکا کہاں ہے؟ جواب: ٹیکس میں۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 114 روپے ٹیکس اور ڈیوٹیاں شامل ہیں۔ ڈیزل میں یہ رقم 100 روپے ہے۔ یعنی آپ جو پیٹرول ڈلواتے ہیں، اس کا تقریباً 30 فیصد حکومت کی جیب میں جاتا ہے۔ حکومت ”شفافیت“ کے نام پر روزانہ قیمت بدلنے کا تماشا تو رچا سکتی ہے۔ مگر پیٹرولیم لیوی کم کرنے کی بات پر وہ خاموش ہے۔ جماعت اسلامی اگست سے اسی لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
حل: روزانہ تماشا بند، ہفتہ وار نظام بحال کرو
میرا موقف واضح ہے: ڈیلی فیول پرائسنگ (daily fuel pricing) عام آدمی کے حق میں نہیں۔ یہ نظام عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو تو فوری منتقل کرتا ہے۔ مگر اس کی قیمت عوام اپنے ذہنی سکون اور کاروباری استحکام کی صورت میں چکاتی ہے۔ بہتر یہ تھا کہ ہفتہ وار یا پندرہ روزہ نظام بحال رکھا جاتا۔ اس میں صارف کو بھی پیشگی اندازہ ہوتا۔ ٹرانسپورٹر کو بھی منصوبہ بندی کا موقع ملتا۔
عوام کو واقعی ریلیف دینا ہے تو روزانہ 88 پیسے کے کھیل سے نہ دیا جائے۔ یہ ریلیف ٹیکسوں میں کٹوتی سے دیا جائے۔ 114 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر کے 88 پیسے کی ”شفافیت“ کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کی جیب کاٹ کر اسے مسکرا کر ٹافی تھما دی جائے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا: اسے عوام کی سہولت چاہیے یا صرف اچھی ہیڈلائنز؟
مزید کالم پڑھیں: لاہور میں سموگ کا بحران | ماخذ: دی اسٹینڈرڈ
مظفرآباد: 30°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو