مظفرآباد کے قریب دریائے جہلم اور وادی کا منظر — kashmir black day 5

یوم سیاہ کشمیر — آزاد کشمیر بھر میں ریلیاں، مظفرآباد میں جامعہ کی تقریب

آزاد جموں و کشمیر میں 27 اکتوبر کو black day کے طور پر منایا گیا۔ اس موقع پر مظفرآباد سمیت مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں ریلیاں نکالی گئیں۔ سیمینار بھی منعقد ہوئے۔ تقریبات میں طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

مظفرآباد میں جامعہ آزاد جموں و کشمیر نے ریلی اور سیمینار کا اہتمام کیا۔ ریلی یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریشن بلاک سے شروع ہوئی۔ یہ انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر اسٹڈیز تک پہنچی۔ وائس چانسلر پروفیسر ناصر جمال کھٹک نے شرکت کی۔ سابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) سید منظور حسین گیلانی بھی شریک ہوئے۔ اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

kashmir black day: سیمینار میں کیا کہا گیا؟

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے 27 اکتوبر 1947 کا واقعہ یاد دلایا۔ اس دن بھارتی فوجی سری نگر میں اترے تھے۔ کشمیری عوام اسے اپنے علاقے پر قبضے کی شروعات سمجھتے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صرف بیانات کافی نہیں ہیں۔ مسئلے کے حل کے لیے عملی اور ٹھوس کوششیں درکار ہیں۔ نوجوانوں سے کہا گیا کہ وہ تنازعے کے تاریخی پہلوؤں کو سمجھیں۔ شرکاء نے کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ کشمیری عوام کے حقوق کے بارے میں آگاہی پھیلانا بھی ضروری ہے۔

آزاد کشمیر بھر میں ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ کشمیر لبریشن سیل نے بھی مظفرآباد میں مظاہرے کا اہتمام کیا۔ مظفرآباد میں مرکزی اجتماع کی قیادت وزیر اعظم افتخار گیلانی نے کی۔ اس موقع پر 5 اگست 2019 کے اقدام کی بھی مذمت کی گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کی اپیل پر ہڑتال کی اطلاعات آئی ہیں۔

یوم سیاہ کی تقریبات کا مقصد عالمی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا تھا۔ شرکاء نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں