روس اور یوکرین کے درمیان ایک مقامی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ oleshky ceasefire کا مقصد خیرسون کے علاقے میں واقع اولیشکی قصبے میں امداد پہنچانا ہے۔ یہ قصبہ فروری 2022 سے روسی قبضے میں ہے۔ جنگ بندی کے تحت شہریوں کو محفوظ راستے سے نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ معاہدہ جمعہ 23 اکتوبر کو سامنے آیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس معاہدے میں امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا کردار رہا ہے۔ روسی چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف نے بھی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ یوکرین کے محتسب دمیٹرو لوبینیٹس نے بھی اپنے ملک کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ دونوں فریقوں نے فائر بندی پر اتفاق کیا ہے۔
oleshky ceasefire: آغاز کی تاریخ پر اختلاف کیا ہے؟
آغاز کی تاریخ پر دونوں جانب سے مختلف باتیں سامنے آئی ہیں۔ کییف اور ماسکو کے حکام کے مطابق جنگ بندی منگل 27 اکتوبر سے شروع ہوگی۔ گیراسیموف نے ماسکو وقت کے مطابق صبح 4 بجے کا وقت بتایا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں 29 اکتوبر کی تاریخ دی گئی ہے۔ اس فرق کو اس خبر میں واضح طور پر درج کیا جا رہا ہے۔ کسی ایک تاریخ کو حتمی طور پر درست نہیں کہا جا رہا ہے۔ دی نیوز کی تفصیلی رپورٹ میں یہ اختلاف درج ہے۔
اولیشکی میں اب تقریباً 1 ہزار 700 سے 2 ہزار افراد رہ گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر بزرگ ہیں۔ وہ خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض رہائشیوں نے بتایا ہے کہ وہ گھاس ابال کر گزارا کر رہے ہیں۔ جنگ بندی کا مقصد انہی لوگوں تک امداد پہنچانا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
جنگ بندی کے بعد شہری ٹیمیں گھر گھر جا کر ضروریات کا جائزہ لیں گی۔ جو لوگ نکلنا چاہیں گے، انہیں روس یا یوکرین لے جایا جائے گا۔ بین الاقوامی خبریں یہاں پڑھیں۔ نومبر کے پہلے نصف میں ابوظہبی میں تکنیکی سطح کی بات چیت بھی طے ہے۔ اس جنگ بندی کی مدت کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے کچھ نہیں بتایا ہے۔ oleshky ceasefire کو اسی لیے ایک مقامی اور محدود جنگ بندی ہی سمجھا جائے۔
مظفرآباد: 27.8°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو