لاہور میں عارفہ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک — it jobs pakistan پر کالم 4

آئی ٹی برآمدات کا ریکارڈ، مگر نوجوان ڈویلپرز کے لیے دروازہ بند — یہ کیسی کامیابی ہے؟

پاکستان کی آئی ٹی صنعت جشن منانے میں حق بجانب ہے — مالی سال 26 میں 4.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات، ستمبر میں 435 ملین ڈالر کی تاریخ کی دوسری بڑی ماہانہ رقم، اور فری لانسرز کی آمدنی میں 78 فیصد اضافہ۔ مگر اس چمکتی تصویر کے پیچھے ایک تلخ حقیقت ہے جس پر کوئی بات نہیں کر رہا: it jobs pakistan میں نئے آنے والوں کے لیے دروازہ تیزی سے بند ہو رہا ہے۔

ہر سال تقریباً 70 ہزار نوجوان کمپیوٹر سائنس کی ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں۔ دس سال پہلے یہ نوجوان جونیئر ڈویلپر کی حیثیت سے انڈسٹری میں قدم رکھتے تھے — بگ فکسنگ، ڈاکیومنٹیشن اور بنیادی کوڈنگ کرتے کرتے تجربہ حاصل کرتے تھے۔ آج اے آئی ٹولز یہ کام ان سے تیز اور سستا کر لیتے ہیں، اس لیے آجر سب سے پہلے اسی “پہلی سیڑھی” کو کاٹ رہے ہیں۔

it jobs pakistan: کامیابی کا ارتکاز

برآمدات اس لیے بڑھ رہی ہیں کہ قائم شدہ کمپنیاں فی ملازم زیادہ قدر پیدا کر رہی ہیں، اس لیے نہیں کہ شعبہ زیادہ لوگوں کو روزگار دے رہا ہے۔ جب 57 فیصد برآمدات ایک ہی منڈی (امریکہ) کو جائیں اور بڑی فرمیں چمکیں، تو یہ قومی کامیابی لگتی ہے — مگر گوجرانوالہ کا وہ گریجویٹ جسے پہلی نوکری نہیں مل رہی، اسے یہ کامیابی نہیں، بند دروازہ نظر آتی ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت کا “براق” اردو اے آئی ماڈل ڈیٹا کی خودمختاری کا درست جواب ہے، مگر یہ ایک بھی جونیئر نوکری پیدا نہیں کرے گا۔ 2030 تک ایک ارب ڈالر کی اے آئی سرمایہ کاری کا اعلان خوش آئند ہے، لیکن اگر یہ رقم صرف ماڈلز پر خرچ ہوئی اور نوجوانوں کی تربیت پر نہیں، تو ہم ایک ایسی عمارت بنا رہے ہیں جس میں سیڑھی ہی نہیں۔ تفصیل بلوم پاکستان کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

حل: نوکریوں کو برآمدات سے جوڑا جائے

ریاست کے پاس it jobs pakistan کے لیے ایک سیدھا راستہ ہے: اے آئی فنڈنگ اور پی ایس ای بی کی مراعات کو ان کمپنیوں سے مشروط کیا جائے جو اے آئی کی نگرانی میں جونیئر اپرنٹس شپ چلائیں۔ کمپنیوں کی کامیابی صرف ڈالروں سے نہیں، اس سے ناپی جائے کہ انہوں نے کتنے نئے ڈویلپرز تیار کیے۔

اور اس سے پہلے ایک ثقافتی تبدیلی ضروری ہے۔ ہماری فری لانسنگ ثقافت اب بھی جونیئرز کو حریف سمجھتی ہے، شاگرد نہیں۔ جب تک سینئرز کو رہنمائی کی ترغیب نہیں ملے گی — منظم اپرنٹس شپس پر ٹیکس مراعات، نئے بھرتیوں کی عوامی درجہ بندی — برآمدات کا ریکارڈ بڑھتا رہے گا اور ٹیلنٹ کی نہر سوکھتی رہے گی۔ ستمبر کی آئی ٹی برآمدات کی خبر یہاں پڑھیں۔ فصل کا جشن منانا اچھا ہے، مگر بیج کی فکر کیے بغیر جشن ادھورا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں