اسرائیل میں israel election exit polls کے بعد ووٹنگ کی فائل فوٹو — پولنگ اسٹیشن میں خاتون کا بیلٹ باکس میں ووٹ ڈالنا 18

اسرائیل انتخابات — ایگزٹ پولز میں کسی کو اکثریت نہ ملی، مخمصہ برقرار

اسرائیل میں 27 اکتوبر کی شام israel election exit polls جاری ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی بلاک حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ ملک میں سیاسی مخمصے کی صورتحال برقرار ہے۔ ووٹنگ دن بھر جاری رہی تھی۔ واضح رہے کہ یہ نتائج حتمی نہیں ہیں۔ یہ ایگزٹ پولز پر مبنی ابتدائی اندازے ہیں۔

ایگزٹ پولز کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کے بلاک کو تقریباً 50 نشستیں مل سکتی ہیں۔ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک کو 52 سے 53 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت کے لیے 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ دونوں بلاک اس حد سے دور نظر آتے ہیں۔ ایگزٹ پولز شام کو پولنگ ختم ہونے کے بعد سامنے آئے۔

israel election exit polls: نشستوں کی تقسیم

انفرادی جماعتوں میں لیکود سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ اسے 24 سے 25 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ آئزن کوٹ کی جماعت یشار کو 21 سے 23 نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والی جماعتوں کو 17 سے 18 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ آئندہ حکومت سازی میں ان کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ چھوٹی جماعتیں بھی کئی نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔

ووٹنگ میں عوام کی شرکت نمایاں رہی۔ رات آٹھ بجے تک ٹرن آؤٹ 74.3 فیصد ریکارڈ ہوا۔ 2022 کے انتخابات میں اسی وقت یہ شرح 66 فیصد تھی۔ حتمی سرکاری نتائج 4 نومبر تک جاری ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد اتحادی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات شروع ہوں گے۔ انتخابی عمل پرامن طریقے سے مکمل ہوا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایگزٹ پولز اور حتمی نتائج میں فرق ہو سکتا ہے۔ کسی بھی جماعت کی کامیابی کا حتمی اعلان سرکاری نتائج کے بعد ہی ہو گا۔ چھوٹی جماعتوں کا کردار اس بار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ دونوں بڑے بلاکوں کو اکثریت کے لیے ان کی حمایت درکار ہو گی۔ اسرائیل میں حالیہ برسوں میں کئی بار انتخابات ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں