ایران کے دارالحکومت تہران میں پیر کو ایک اہم چار ملکی بیٹھک ہوئی ہے۔ اس بیٹھک میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلی حکام نے ایرانی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور مذاکرات کا راستہ کھولنا ہے۔ یہ بیٹھک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ tehran talks کا مقصد اسی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بھی شریک ہوئے ہیں۔ ترکیے کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن بھی وفد میں شامل تھے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ان سے ملاقات کی ہے۔ tehran talks کا یہ اجلاس سعد آباد محل میں ہوا ہے۔
tehran talks: بیٹھک میں کیا بات ہوئی؟
ایرانی ذرائع کے مطابق بات چیت میں علاقائی سلامتی، فوجی جارحیت کے نتائج اور فلسطین و لبنان کی حمایت پر غور کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ یہ ملاقات خطے کی سلامتی کے لیے مقامی ممالک کے تعاون کی کوشش ہے۔ نائب سیکیورٹی عہدیدار علی باقری کانی نے کہا ہے کہ یہ مشاورت مغربی ایشیا میں مقامی سلامتی کے تصور کے تحت ہوئی ہے۔ الجمائنر کی تفصیلی رپورٹ میں ملاقات کی تفصیل درج ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس دورے کا مقصد مذاکرات کا راستہ کھولنا ہے۔ اس سے فوجی کشیدگی کی واپسی کو روکا جا سکے۔ سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کرملی نے کہا ہے کہ یہ کوشش مکہ معاہدے کے ممالک کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور سفارتی حل کی حمایت کرنا ہے۔ پاکستان اور قطر اس سے قبل بھی ثالثی کی کوششیں کر چکے ہیں۔
مکہ معاہدہ کیا ہے؟
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے نے اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس ماہ کے آغاز میں اس معاہدے کی اسٹریٹجک اور دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں ہوا تھا۔ اجلاس میں مشترکہ روک تھام کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تہران کی بیٹھک اسی معاہدے کے ممالک اور ایران کے درمیان پہلا اعلی سطحی رابطہ ہے۔
ایرانی صدر پزشکیان نے کہا ہے کہ مسلم ممالک کا اتحاد اسرائیل کی جارحیت کو روک سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فوجی دباؤ نے ایران کو کمزور نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس سے قومی اتحاد مضبوط ہوا ہے۔ چاروں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امن و سلامتی کے لیے تعاون بڑھایا جائے گا۔ خطے کی دیگر خبریں یہاں پڑھیں۔
یہ بات واضح رہے کہ ایٹمی مسئلہ اس بیٹھک کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔ ایرانی حکام نے پہلے ہی کہا تھا کہ ایٹمی مذاکرات سے قبل امریکہ کو ان کی شرائط ماننی ہوں گی۔ tehran talks کا اصل نتیجہ یہ ہے کہ خطے کے ممالک نے براہ راست بات چیت کا راستہ کھولا ہے۔ اس سے کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ مگر اس کا حتمی نتیجہ آئندہ مذاکرات پر منحصر ہو گا۔
مظفرآباد: 18.9°C، صاف | روزنامہ پرل ویو