مائیکرو چپ کا قریبی منظر — ai investment پر پابندیوں کے مرکز میں سیمی کنڈکٹر اور اے آئی ٹیکنالوجی 4

امریکہ نے چین میں اے آئی اور بائیوٹیک سرمایہ کاری پر پابندیاں سخت کر دیں

امریکہ نے چین میں ai investment پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے 22 اکتوبر کو کوئنز ایکٹ کے تحت نئے مسودہ قواعد جاری کیے ہیں۔ اس قانون کا پورا نام کمپری ہینسیو آؤٹ باؤنڈ انویسٹمنٹ نیشنل سیکیورٹی ایکٹ ہے۔ نئے قواعد کے تحت امریکی سرمایہ کاروں کے لیے چین میں چھ شعبوں میں سرمایہ کاری پر پابندی یا لازمی اطلاع کی شرط عائد کی جائے گی۔ ان شعبوں میں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور کوانٹم ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، ہائپرسونک نظام اور بائیوٹیک بھی شامل ہیں۔

یہ مسودہ اس قانون پر عمل درآمد کا حصہ ہے جسے کانگریس نے گزشتہ سال دسمبر میں منظور کیا تھا۔ یہ قانون مالی سال 2026 کے قومی دفاعی اجازت نامے کے قانون کے تحت منظور ہوا۔ اس قانون کے تحت خزانے کے سیکرٹری کو ایک اختیار دیا گیا ہے۔ وہ نئے شعبے بھی اس فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔ بائیوٹیک پہلا ایسا شعبہ ہے جسے اس اختیار کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ مسودے کے مطابق 50 ہزار ڈالر سے زیادہ مالیت کی سرمایہ کاری اس نظام کے دائرے میں آئے گی۔ عوامی منڈیوں میں حصص کی خریداری اس سے باہر رہے گی۔

ai investment پر پابندیوں کی تفصیل کیا ہے؟

مسودے کے تحت بعض لین دین مکمل طور پر ممنوع ہوں گے۔ بعض کے لیے خزانے کو پیشگی اطلاع دینا لازم ہوگا۔ ممنوع لین دین میں ایکویٹی سودے اور کنورٹیبل قرضے شامل ہیں۔ جوائنٹ وینچر، گرین فیلڈ سرمایہ کاری اور محدود شراکت داری کے وعدے بھی شامل ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق خلیوں یا جینز میں تبدیلی کرنے والی بعض تھراپیوں پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔ امیونو تھراپیوں پر بھی پابندی ہوگی۔ تاہم امریکی دوا ساز کمپنیاں چین میں ایجاد شدہ ادویات کے حقوق خریدنا جاری رکھ سکیں گی۔ سیول اکنامک ڈیلی کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ایک واضح پیغام ہے۔ تجارتی جنگ بندی کے باوجود ٹیکنالوجی کے محاذ پر امریکہ کا موقف سخت ہے۔

یہ پابندیاں صرف چین تک محدود نہیں ہیں۔ ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاوہ روس، ایران، شمالی کوریا اور کیوبا بھی نامزد ہیں۔ ان سب کو ‘تشویش والے ممالک’ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ ان پر یہی سرمایہ کاری کی جانچ لاگو ہوگی۔

اس فیصلے کے اثرات کیا ہوں گے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایک بڑا اثر ہوگا۔ چینی اے آئی اسٹارٹ اپس کے لیے امریکی وینچر سرمایہ کا راستہ تقریباً بند ہو جائے گا۔ اس سے چین کی سپلائی چین میں مقامی متبادل کی رفتار تیز ہوگی۔ ٹیکنالوجی سے متعلق گزشتہ خبر یہاں پڑھیں۔

مسودے پر عوامی رائے کے لیے تبصرے 7 دسمبر 2026 تک جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ حتمی قواعد نافذ ہونے تک موجودہ قواعد لاگو رہیں گے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایک بہاؤ روکنا ہے۔ یہ سرمایہ کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے فوائد کا بہاؤ ہے۔ امریکہ کے حکام کے مطابق ai investment پر ان پابندیوں کا مقصد صرف سرمایہ روکنا نہیں ہے۔ ان فوائد میں حکمت عملی کی توثیق، ہنر اور سپلائی چین کے وسائل شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں