4

نظام ایک آئین قانون کے تحت اگر چلتا رہے تو وہ معاشرہ ترقی کامیابی حاصل کرتا ہے خواجہ فاروق احمد

مظفرآباد(ڈیلی پرل ویو)پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینئر ایڈووکیٹ خواجہ فاروق احمد نے آزادکشمیر کی تمام بار ایسوسی ایشنز،بار کونسل اور قانون سے تعلق رکھنے والے تمام اداروں،شخصیات سے آزادکشمیر میں صدر کا انتخاب نہ ہونے پر ان کی قانونی آراء طلب کرتے ہوئے یہ سوال کیا ہے کہ آزادکشمیر میں اس وقت آئین موجود ہے جس کے آرٹیکل 5،8،9 میں صدر کا عہدہ خالی ہونے نئے صدر کا انتخاب کا طریقہ کار اور قائم مقام صدر کے اختیارات سب پر قانون موجود ہے پر عمل نہ کیے جانے پر کیوں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ قائم مقام صدر کی جانب سے دو دن قبل ایک آرڈیننس جاری کیا گیا ہے،قانونی حلقوں سے بھی یہ سوال بنتا ہے کہ 30 دن کے اندر صدر کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں اگر صدر کا انتخاب ہوجانا آئین کا تقاضا ہے اور اگر یہ تقاضا پورا نہ ہو تو صدر کے انتخاب کو 30 دن سے زیادہ عرصہ گزر جائے تو کیا قائم مقام صدر آئین کے آرٹیکل8 کے تحت اپنا عہدہ جاری رکھ سکتا ہے اور پھر کیا کوئی آرڈیننس بھی جاری کرنے کا مجاز ہے۔خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ آزادکشمیر کی تمام بار ایسوسی ایشنز،بار کونسل،عدلیہ،اسمبلی میں موجود سب اراکین اسمبلی کی اس اہم خلاف ورزی جو آئین آزادکشمیر کی کی جارہی ہے پر خاموشی معنی خیز اور ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور پھر قائم مقام صدر جو 30دن گزر جانے کے بعد اپنی آئینی حیثیت کھو چکے ہیں کی جانب سے آرڈیننس جاری کرنا کیا آئین،قانون کے عین مطابق ہے۔انہوں نے سب قانون سے تعلق رکھنے والے اداروں سے کہا کہ اس مسلسل آئینی خلاف ورزی پر آواز احتجاج بلند کریں تاکہ صدر کے عہدے کا احترام،تقدس بحال رہے کہ سب نظام ایک آئین قانون کے تحت اگر چلتا رہے تو وہ معاشرہ ترقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔قانونی حلقوں کو اس صورتحال پر ضرور اپنا موقف پوری ذمہ داری جرات کے ساتھ دینا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں