مظفرآباد (ڈیلی پرل ویو)نیلم جہلم پراجیکٹ میں نالہ جندر بہنڑ میں نئی بنائی جانی والی سڑک ناقص حکمت عملی کے تحت کروڑوں روپے کھو کھبل جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ سڑک کا سروے ہی درست نہیں ہے۔ نالہ جندر بہنڑ بارشوں کے موسم میں طغیانی اور طوفان کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ڈھلوان اور ناہموار بلند پہاڑوں سے گرنے والے پانی کے ساتھ بڑے بڑے پتھر طوفانی ریلے کی صورت میں آتے ہیں جو راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی نالہ جندر بہنڑ میں خطیر رقم خرچ کر کے دیوار لگوائی گئی۔ جو تھوڑے ہی عرصے میں نالہ جندر بہنڑ کے طوفان کے ساتھ بہہ گئی تھی۔ اب بھی جس طرح یہ دیوار جس سروے اور نقشے کے مطابق بنائی جا رہی ہے اس کا زیادہ دیر قائم رہنا مشکل ہے۔ ہماری ناقص رائے کے مطابق جہاں سے نالہ تنگ ہے وہاں پانی کا بہاؤ تیز ہوتا ہے۔ اس لیے نالہ کے کنارے پہاڑوں کو تراش کر سڑک بنائی جائے۔ ٹنل A3 کے سامنے نالہ میں سڑک نکالنے کے بجائے ٹنل کے آگے سے پکی زمین جو واپڈا کی ایوارڈ شدہ اراضی ہے وہاں سے سیدھی آگے نالہ سے دور رکھ کر ایک پلی لگنے کے بعد کافی آگے تک محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح آگے نالہ سے ہٹ کر کٹنگ کے بعد سڑک نکالی جائے تب ہی سڑک مستقل اور پائیدار رہ سکتی ہے
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل