کراچی کا کاروباری ضلع — kse 100 کے ہفتہ وار اختتام کے تناظر میں کراچی کی عمارت 3

کے ایس ای 100 ہفتے کے اختتام پر 162374 پر، آج شرح سود کا فیصلہ متوقع

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ ہفتہ مندی پر ختم ہوا ہے۔ kse 100 انڈیکس جمعہ 23 اکتوبر کو 1 ہزار 549 پوائنٹس گر گیا تھا۔ یہ کمی 0.95 فیصد بنتی ہے۔ انڈیکس 162 ہزار 374.87 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ جمعرات کا اختتام 163 ہزار 924.31 پوائنٹس تھا۔ ہفتے کے دوران انڈیکس مجموعی طور پر 4 ہزار 44 پوائنٹس گرا ہے۔ یہ کمی 2.43 فیصد ہے۔ 16 اکتوبر کو انڈیکس 166 ہزار 419.72 پوائنٹس تھا۔

جمعہ کے روز انڈیکس کی بلند ترین سطح 163 ہزار 966.86 پوائنٹس رہی تھی۔ کم ترین سطح 162 ہزار 292.44 پوائنٹس رہی تھی۔ ریگولر مارکیٹ میں تقریباً 398.94 ملین حصص کا کاروبار ہوا تھا۔ اس کی مالیت تقریباً 18.2 ارب روپے رہی تھی۔ سب سے زیادہ دباؤ میزان بینک، اینگرو ہولڈنگز اور لکی سیمنٹ پر رہا تھا۔

kse 100: مندی کی وجوہات کیا ہیں؟

سرمایہ کاروں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی کی شدت پر تشویش ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ایک وجہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے فیصلے سے قبل احتیاط بھی نظر آ رہی ہے۔ ہفتے میں 5 میں سے صرف ایک سیشن میں مارکیٹ سبز رہی تھی۔ میٹس گلوبل کی ہفتہ وار رپورٹ میں یہ تفصیل درج ہے۔ ایک ذریعے نے جمعہ کا اختتام 162 ہزار 347 پوائنٹس بتایا ہے۔ یہ پی ایس ایکس پورٹل کے 162 ہزار 374.87 سے تقریباً 28 پوائنٹس کم ہے۔ اس خبر میں پورٹل کا نرخ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق کئی ذرائع سے ہوتی ہے۔

آج شرح سود کا فیصلہ

آج پیر کو اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے۔ موجودہ پالیسی شرح 11.50 فیصد ہے۔ بلومبرگ کے حوالے سے میٹس گلوبل نے 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔ اس سے شرح 12 فیصد ہو جائے گی۔ اس کی وجہ مہنگائی بتائی گئی ہے۔ اگست میں مہنگائی 11.1 فیصد سالانہ رہی تھی۔ بنیادی مہنگائی 8.7 فیصد رہی تھی۔ ہدف 5 سے 7 فیصد ہے۔ دوسری جانب تاجروں کی ایک تنظیم نے شرح میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صنعت کو سستی قرض کی ضرورت ہے۔ معیشت کی دیگر خبریں یہاں پڑھیں۔ یہ فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔ kse 100 پر اس فیصلے کا اثر آج کے کاروبار میں نظر آئے گا۔ اس خبر میں کسی فیصلے کو حتمی طور پر نہیں بتایا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں