اسمارٹ فون میں مگن بچہ — online child safety کے لیے والدین کی ڈیجیٹل نگرانی ناگزیر 10

بچی کو بچا لیا گیا، مگر چھ ماہ تک کسی نے دیکھا کیوں نہیں؟ — ڈیجیٹل والدین کی ناکامی

کراچی میں 13 سالہ بچی کو ڈارک ویب سے جڑے نیٹ ورک سے بچا لیا گیا — یہ خبر سن کر پہلا احساس شکر کا ہے کہ این سی سی آئی اے وقت پر پہنچ گئی۔ مگر دوسرا احساس ایک تکلیف دہ سوال ہے۔ والدین نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران بچی کے رویے میں تبدیلی محسوس کی تھی — تو چھ ماہ تک کسی نے اسے انٹرنیٹ سے کیوں نہیں جوڑا؟ online child safety کا یہی وہ اندھا دھبہ ہے جس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔

ہم نے بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تو تھما دیا، مگر اس کے ساتھ ڈیجیٹل تربیت نہیں دی۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچہ کمرے میں محفوظ ہے کیونکہ وہ گھر کے اندر ہے — جبکہ اسی کمرے میں، اسی فون کی اسکرین پر، دنیا بھر کے اجنبی اس تک پہنچ سکتے ہیں۔ کراچی کا یہ واقعہ اسی غلط فہمی کی قیمت ہے۔

online child safety کا اصل مسئلہ پولیس نہیں، گھر ہے

این سی سی آئی اے کی کارروائی قابل تحسین ہے۔ بین الاقوامی ایجنسی کی اطلاع، آئی پی ایڈریسز کا سراغ، خفیہ شناختوں سے رابطہ، اور پھر بروقت مداخلت۔ مگر سچ یہ ہے کہ پولیس ہر بچے کے فون تک نہیں پہنچ سکتی۔ 13 ممالک میں پھیلے نیٹ ورک کا سراغ ایک اطلاع پر لگا۔ مگر وہ اطلاع اس وقت آئی جب بچی پہلے ہی ایک بلی کو زہر دے چکی تھی۔ وہ خود کو نقصان پہنچانے کے دہانے پر تھی۔ سوال یہ نہیں کہ ادارے کیا کریں — سوال یہ ہے کہ گھر نے چھ ماہ میں کیا کیا؟

رویے میں تبدیلی — چڑچڑاپن، تنہائی، رات گئے جاگنا، فون چھپانا — یہ سب نشانیاں والدین نے دیکھیں۔ مگر انہیں “عمر کا تقاضا” سمجھ کر نظرانداز کر دیا گیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں online child safety ناکام ہوتی ہے۔ خطرہ نظر آتا ہے، مگر اسے نام نہیں دیا جاتا۔

والدین اب کیا کریں؟ تین عملی قدم

پہلا: بچے کے ساتھ انٹرنیٹ کے بارے میں کھلی بات چیت — ڈانٹنے کے بجائے سننے کی عادت۔ جو بچہ والدین سے ڈرتا ہے، وہ اجنبیوں سے بات کرے گا۔ دوسرا: یہ جاننا کہ بچہ کون سی ایپس استعمال کرتا ہے۔ ان میں پرائیویسی سیٹنگز کیا ہیں — یہ جاسوسی نہیں، ذمہ داری ہے۔ تیسرا: اسکولوں میں ڈیجیٹل خواندگی کو نصاب کا حصہ بنانا۔ تاکہ بچے خود خطرے کو پہچان سکیں۔

کراچی کی بچی بچ گئی — مگر ہر بچی تک این سی سی آئی اے نہیں پہنچے گی۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مزید بچے تو نشانہ نہیں بنے۔ گزشتہ کالم یہاں پڑھیں۔ اصل سبق یہ ہے: فون دینے سے پہلے تربیت دیں، اور تربیت کے بعد نگرانی — یہی online child safety کی بنیاد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں