2

کیا اندھیرے میں ڈوبا ہوا پاکستان ایک بار پھر واپس آ گیا ہے؟

لاہور (ڈیلی پرل ویو) ایسا لگتا ہے کہ ہم دوبارہ 2011 کے سال میں داخل ہو گئے ہیں۔ وہ وقت یاد آ رہا جب ہر تھوڑی دیر بعد بجلی چلی جاتی تھی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہر گھنٹے بعد بجلی بند ہو رہی ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی صورتحال کیا ہو گی؟ کیا اندھیرے میں ڈوبا ہوا پاکستان ایک بار پھر واپس آ گیا ہے؟
ہوٹل اور مارکیٹیں تو رات 8 اور 10 بجے بالترتیب بند ہو جاتی ہیں تو پھر آخر رات کے ایک بجے تک کے یہ پیک آورز کس کے لیے ہیں؟
یہ اور اس نوعیت کے دیگر گلے شکوے اور سوالات پاکستان کے سوشل میڈیا پر اب کافی عام نظر آ رہے ہیں اور اس کی وجہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کی واپسی ہے۔
پاور ڈویژن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فی الوقت پاکستان میں بجلی کی طلب 18000 میگا واٹ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 13500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، چنانچہ بجلی کی طلب اور رسد میں 4500 میگا واٹ کا فرق ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ آنے والے دنوں میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھے گا۔اپریل کے مہینے میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے بیچ پاکستان میں درآمدی ایل این جی کی سپلائی کا بند ہونا ہے۔
پاور سیکٹر کے تجزیہ کار زیان بابر علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہوئی تو قطر سے پاکستان آنے والی ایل این جی کی سپلائی معطل ہو گئی جبکہ پاکستان میں چار ہزار سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے مختلف پاور پلانٹس ایل این جی کا استعمال کرتے ہیں۔ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث بجلی طلب کے مطابق نہیں بن پا رہی اور اب اس کی رسد میں خلل واقع ہو رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں دیگر ذرائع جیسا کہ ڈیزل سے بھی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے تاہم ڈیزل کی زیادہ قیمت کی وجہ سے حکومت یہ ذریعہ استعمال نہیں کر رہی کیونکہ اس صورت میں بجلی مہنگی ہو گئی اور لامحالہ اس کا اثر عوام پر مہنگی بجلی کی صورت میں منتقل کرنا پڑے گا۔
زیان کے مطابق اپریل کے مہینے میں ملک میں پانی سے بجلی بنانے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہائیڈرو پاور ذرائع سے کم بجلی آتی ہے اور یہی صورتحال ملک میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ بن رہی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آنے والوں دنوں میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی کیونکہ فی الحال ایل این جی سپلائی معطل ہے اور اگر آبنائے ہرمز آئندہ بھی بند رہی تو پاکستان میں گرمیوں میں بجلی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔عموماً اپریل میں بجلی کی طلب 18000 میگاواٹ کے لگ بھگ ہوتی ہے تاہم حکومت مہنگی بجلی پیدا نہیں کر رہی جس کی وجہ سے یہ طلب پوری نہیں ہو رہی۔
تجزیہ کار محمد لقمان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں تقریباً 12 سے 13 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ فی الحال ملک کی ضرورت 17 سے 18 ہزار میگا واٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر یہ شارٹ فال مزید بڑھا تو لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ابھی تو حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیک آورز میں دو سے ڈھائی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے مگر حقیقت میں بجلی اس سے کہیں زیادہ جا رہی ہے۔اس کے علاوہ ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے بھی بجلی کی فراہمی متاثر ہے جبکہ فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹ بھی بند ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں