کراچی کنٹینر پورٹ پر pakistan trade deficit کے تناظر میں کارگو کنٹینرز اور کرینیں 13

پاکستان کا علاقائی تجارتی خسارہ 26 فیصد بڑھ کر 4.97 ارب ڈالر ہو گیا

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں pakistan trade deficit نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر 2026 میں یہ خسارہ 4.97 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ گزشتہ برس اسی عرصے میں یہ خسارہ 3.93 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح خسارے میں 26.62 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس عرصے میں نو ہمسایہ ممالک کو برآمدات کم ہوئیں۔ برآمدات 6.72 فیصد کمی کے ساتھ 944.24 ملین ڈالر رہیں۔ ان ممالک سے درآمدات 19.79 فیصد بڑھ کر 5.92 ارب ڈالر ہو گئیں۔ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں تیزی ہی خسارے کی بنیادی وجہ بنی۔

pakistan trade deficit: چین کا کردار سب سے بڑا

خسارے میں اضافے کا تقریباً 82 فیصد حصہ چین سے تجارت کا ہے۔ چین سے درآمدات 19.76 فیصد اضافے کے ساتھ 5.82 ارب ڈالر ہو گئیں۔ دوسری جانب چین کو برآمدات صرف 663.57 ملین ڈالر رہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی فرق میں 858.8 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔

دیگر ہمسایوں کے ساتھ تجارت ملی جلی رہی۔ افغانستان کو برآمدات 88.34 فیصد گر کر 18.86 ملین ڈالر رہ گئیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ 10 اکتوبر 2025 سے تجارت کی معطلی ہے۔ بھارت کو کوئی برآمد ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس بھارت سے درآمدات 68.9 فیصد اضافے کے ساتھ 61.74 ملین ڈالر رہیں۔ بنگلہ دیش کو برآمدات 2.96 فیصد کمی کے ساتھ 174.77 ملین ڈالر رہیں۔

مجموعی تجارت میں بھی یہی رجحان نظر آتا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق مجموعی تجارتی خسارہ 15.13 فیصد اضافے کے ساتھ 10.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات بڑھائے بغیر خسارے پر قابو پانا مشکل ہو گا۔ مقامی صنعت کی مسابقت بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ حکومت کو برآمدی صنعت کے لیے سہولتیں بڑھانی چاہئیں۔

برآمدات بڑھانے کے لیے حکومت اور صنعت کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں