اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی عمارت، کراچی، sbp policy rate hike کے تناظر میں 9

اسٹیٹ بینک نے شرح سود 12 فیصد کر دی، قرض مہنگا ہونے کا خدشہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پیر 26 اکتوبر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ نئی شرح آج منگل 27 اکتوبر سے نافذ ہو رہی ہے۔ اس اضافے کے بعد پالیسی شرح 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ اپریل 2026 کے بعد پہلا اضافہ ہے۔ اس سے قبل تین اجلاسوں میں شرح برقرار رکھی گئی تھی۔ sbp policy rate میں یہ تبدیلی آج سے نافذ ہو رہی ہے۔

کمیٹی کے دس ارکان میں سے نو نے 50 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ایک رکن نے اس سے زیادہ اضافے کی حمایت کی تھی۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مہنگائی کا منظرنامہ نمایاں طور پر خراب ہوا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کا تنازع اور مشرق وسطی میں کشیدگی ہے۔ sbp policy rate میں یہ اضافہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

sbp policy rate: اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے۔ گندم کی قیمتوں میں بھی گزشتہ دو سے تین ماہ میں اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر میں مجموعی مہنگائی 10.3 فیصد سالانہ رہی ہے۔ یہ اگست کے 11.1 فیصد سے کم ہے۔ مگر جولائی کے 9.2 فیصد سے زیادہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کا درمیانی مدت کا ہدف 5 سے 7 فیصد ہے۔ مہنگائی اس ہدف سے مسلسل اوپر ہے۔ پی کے ریونیو کی تفصیلی رپورٹ میں یہ اعداد درج ہیں۔

مرکزی مہنگائی بھی تقریبا 8.4 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں کا اثر مجموعی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شرح میں اضافہ ضروری سمجھا گیا ہے۔ اس سے مہنگائی کی توقعات کو لنگر انداز کیا جا سکے گا۔ دوسرے مرحلے کے اثرات کو بھی روکا جا سکے گا۔

کاروبار اور عوام پر کیا اثر ہو گا؟

کاروباری حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس نے اسے مایوس کن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگا قرض صنعتی توسیع کو نقصان پہنچائے گا۔ برآمدات کی مسابقت بھی کم ہو گی۔ دوسری جانب اوورسیز انویسٹرز چیمبر نے اسے درست قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں کے باعث محتاط رویہ ضروری تھا۔

عام صارفین کے لیے قرض مہنگا ہونے کا خدشہ ہے کہ کاروباری قرض، گاڑیوں کے قرض اور دیگر قرضوں کی قسطیں بڑھ سکتی ہیں۔ مگر جن قرضوں کی شرح مقرر ہے ان پر فوری اثر نہیں پڑے گا۔ اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2027 کے لیے معاشی ترقی کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد لگایا ہے۔ گزشتہ روز کی معاشی خبر یہاں پڑھیں۔

کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ مہنگائی کے منظرنامے میں مزید خطرات بھی ہیں۔ ان میں توانائی کے نرخوں میں تبدیلی، گندم کی قیمت اور خراب موسم شامل ہیں۔ sbp policy rate کا اگلا فیصلہ ان ہی عوامل پر منحصر ہو گا۔ اگر مہنگائی کم ہوئی تو شرح میں نرمی بھی آ سکتی ہے۔ مگر ابھی کے لیے پیغام واضح ہے کہ مہنگائی پر قابو اولین ترجیح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں