اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی عمارت، کراچی، sbp policy rate hike کے تناظر میں 14

شرح سود 12 فیصد — مہنگائی کا علاج یا معیشت پر نیا بوجھ؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے sbp policy rate hike کے تحت پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے۔ ریٹ 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ 26 اکتوبر کو کیا گیا۔ اس کا اطلاق 27 اکتوبر سے ہوا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔

ستمبر میں مجموعی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 10.3 فیصد رہی۔ بنیادی مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد تھی۔ یہ اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدتی ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ گورنر جمیل احمد کے مطابق مہنگائی کا منظرنامہ نمایاں طور پر خراب ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باعث تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے۔ گندم کی قیمتیں بھی دباؤ میں ہیں۔

اس فیصلے کے حق میں دلیل واضح ہے۔ اسٹیٹ بینک کا موقف ہے کہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں کا اثر بنیادی مہنگائی میں سرایت کر سکتا ہے۔ توقعات بگڑنے سے مہنگائی قابو کرنا کہیں زیادہ مہنگا پڑے گا۔ اس لیے شرح سود بڑھا کر توقعات کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔

sbp policy rate hike: دوسرا رخ

دوسری طرف صنعتکار اور قرض لینے والے اس فیصلے کو بحالی کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شرح سود بڑھنے سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ قرض کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جب بحالی پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، یہ قدم اسے مزید کمزور کر سکتا ہے۔ مالی سال 2027 کے لیے ترقی کی پیش گوئی 3.5 سے 4.5 فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔ یہ خود اس بات کی علامت ہے کہ معیشت میں تیزی کی گنجائش محدود ہے۔

میری رائے میں اسٹیٹ بینک کا اشارہ سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن اس کا آلہ غلط بیماری پر استعمال ہو رہا ہے۔ آج کی مہنگائی بنیادی طور پر رسد کی کمی اور بیرونی جھٹکوں کی پیداوار ہے۔ تیل مہنگا ہے اور گندم دباؤ میں ہے۔ یہ مسائل شرح سود بڑھا کر حل نہیں ہوتے۔ قرض مہنگا کر کے ہم انہی کاروباروں کو سزا دے رہے ہیں جن کی توسیع سے رسد بہتر ہوتی۔ رسد بہتر ہونے سے قیمتیں خود نیچے آتیں۔

اس لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ آئندہ کسی بھی اضافے کو مجموعی مہنگائی کے عارضی اچھال سے مشروط نہ کیا جائے۔ اسے بنیادی مہنگائی کے مستقل رجحان سے مشروط کیا جائے۔ واضح پیغام دیا جائے کہ رسد کے جھٹکوں کا علاج مانیٹری سختی نہیں ہے۔ رسد بہتر بنانا ہی اصل علاج ہے۔ ورنہ ہم مہنگائی تو شاید قابو کر لیں، مگر اس قیمت پر کہ معیشت کی سانس ہی رک جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں