3

اسلام آباد کی میز، وقار، مکالمہ اور تاریخی ذمہ داری،ڈاکٹر سعدیہ بشیر

ڈیلی پرل ویو،مذاکرات کی میز پر کسی قوم کی نمائندگی محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں، درحقیقت اس قوم کے وقار، فہم اور اجتماعی شعور کی بھرپور عکاسی ہے۔ پاکستان کا حالیہ قدم، جس میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں ایک جرگہ کی صورت دونوں فریقین کو مکالمہ کا موقع فراہم کیا گیا۔ بلاشبہ ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا۔ جہاں تحمل، بردباری اور حکمت کے ساتھ مسائل کو سمجھنے اور حل کی جانب بڑھنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ جہاں نتائج سے زیادہ عمل کی اہمیت تھی۔ اور جہاں خاموشیوں کو توڑ کر مکالمے کی بنیاد رکھی گئی۔
یہ عمل اکیس گھنٹوں پر محیط ضرور تھا، مگر اس کی معنویت دہائیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ تین واضح مراحل۔بالواسطہ رابطہ۔ براہِ راست گفتگو اور پھر تکنیکی سطح۔اس بات کا ثبوت تھے کہ معاملہ وقتی نہیں بلکہ سنجیدہ، پیچیدہ اور دور رس نتائج کا حامل تھا۔
یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مذاکرات کوئی فوری نتائج دینے والا عمل نہیں۔ تعلقات چاہے دو ریاستوں کے درمیان ہوں یا افراد کے درمیان، ایک نشست میں طے نہیں پاتے۔ ان کے پیچھے مسلسل کوشش، اعتماد سازی اور گہری فکری بصیرت درکار ہوتی ہے۔ پاکستانی قیادت نے اس عمل کو جس سنجیدگی اور تدبر کے ساتھ آگے بڑھایا۔وہ پوری قوم کے لیے باعث ِ فخر ہے۔ ایسے مواقع پر فیصلے مسلط نہیں کیے جاتے بلکہ راستے تلاش کیے جاتے ہیں، اور یہی یہاں دیکھنے کو ملا۔
پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ کیاجا رہا ہے ، اب جو بھی مذاکرات ہوں گے مکمل جنگ بندی کےلیے ہوں گے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
یہ کہنا کہ معاہدہ نہیں ہوا۔ ایک سطحی تجزیہ ہو سکتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ مکالمہ رکا نہیں۔ ایک فریق نے واپسی اختیار کی۔جبکہ دوسرے نے تسلسل کی بات کی اور یہی وہ باریک نکتہ ہے۔جہاں سفارتکاری کی اصل روح زندہ رہتی ہے۔ ”ابھی نہیں“ اکثر ”کبھی نہیں“ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا وقفہ ہوتا ہے جہاں فیصلے جانچنے کے لئے وقت لیا جاتا ہے۔ جہاں الفاظ وزن اختیار کرتے ہیں اور جہاں اگلے مرحلے کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
اختلافات اپنی جگہ اہم اور پیچیدہ تھے۔ایٹمی معاملات، علاقائی اثر و رسوخ، سٹرٹیجک گزرگاہیں اور سیاسی مفادات۔ یہ وہ مسائل ہیں جو ایک نشست میں حل نہیں ہوتے مگر ان اختلافات کا واضح ہو جانا بذاتِ خود ایک بڑی پیش رفت ہے، کیونکہ جب مسائل کی اصل نوعیت سامنے آ جائے تو حل کی سمت بھی متعین ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا ماحول فراہم کرنا جہاں دہائیوں سے دور کھڑے فریق نہ صرف ایک میز پر بیٹھیں بلکہ سنجیدہ اور مہذب انداز میں بات بھی کریں۔ اعتماد، توازن، برداشت اور اعلیٰ درجے کی سفارتی حکمت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف یہ ماحول فراہم کیا بلکہ اسے برقرار بھی رکھاجو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔دوسری جانب کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو اس کامیابی کو تسلیم کرنے کے بجائے تنقید اور منفی پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ ان کی نظریں قومی مفاد پر نہیں بلکہ ذاتی تعصبات پر مرکوز ہیں۔ دیکھنے والی آنکھوں میں اگر اخلاص نہ ہو تو کینہ پروری پاکستانی پرچم کے وقار کی بے داغ استری پر سلوٹیں ڈال دیتی ہے۔یہ امر افسوسناک ہے کہ ماضی میں وہی لوگ۔ جن کے ادوار میں پارلیمنٹ کی حرمت کو مجروح کیا گیا، آج قومی وقار کے دعویدار بنے ہوئے ہیں، جنہوں نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا۔ وہ آج ان کی عزت کے علمبردار بننے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن قوم اب باشعور ہو چکی ہے۔ وہ سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا جانتی ہے۔حالانکہ ایسے لمحات قوموں کی سنجیدگی، ظرف اور تہذیب دکھانے کے ہوتے ہیں۔نہ کہ اسے کمزور کرنے کے۔ یہ رویے نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ قومی بیانیے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اصل تصویر اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب مہمان پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہیں۔ جب کھانے، موسیقی، اخلاق اور رویوں کو سراہا جاتا ہے تو یہ محض رسمی جملے نہیں۔ امن کی زبان میں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں موجود فریقین جنگ نہیں،بلکہ سکون چاہتے ہیں۔ تصادم نہیں بلکہ مکالمہ چاہتے ہیں۔ شور نہیں،بلکہ استحکام چاہتے ہیں۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی مصافحہ نہیں تھا،بلکہ ایک ایسا غیر معمولی لمحہ تھا۔ جسے سفارت کاری کی زبان میں کامیابی اور تاریخ کی زبان میں ایک بڑی پیش رفت کہا جاتا ہے۔ جو کام دہائیوں تک ممکن نہ ہو سکا۔ وہ پاکستان نے اپنے تدبر، خلوص اور سنجیدہ کاوشوں سے ممکن بنا کر دکھایا۔
دنیا کو ایک ممکنہ تصادم سے بچانے اور مکالمے کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا۔ وہ محض ایک وقتی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جو وقت کے ساتھ اپنی اہمیت مزید ثابت کرے گا۔ یہ وہ لمحہ ہے جو تاریخ کے اوراق میں صرف درج نہیں ہوگا بلکہ ایک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔پاکستان کی یہ کاوش اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو۔قیادت باصلاحیت ہو اور حکمت عملی متوازن ہو تو بڑے سے بڑا فاصلہ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
یہاں قیادت کی بصیرت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ بروقت فیصلے، متوازن حکمت عملی اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے درست سمت کا تعین۔یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے اس پورے عمل کو ممکن بنایا۔ خصوصاً فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی دوراندیشی نے اس سفارتی کاوش کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان نہ صرف ایک میزبان بلکہ ایک باوقار ثالث کے طور پر ابھرا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سفارت کاری میں کھلے عام اعتراف کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب دونوں اطراف کسی کردار کو سراہیں تو یہ محض رسمی جملے نہیں،بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے نہ صرف میزبانی کی،بلکہ ایک قابل ِ اعتبار ثالث کے طور پر خود کو منوایا۔
اس عمل میں پاکستان آرمی، نائب وزیراعظم اور بے شمار دیگر افراد کی مشترکہ کاوشیں شامل ہیں۔جنہوں نے مل کر پاکستان کا ایک مضبوط، مثبت اور متوازن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کا وقار عالمی سطح پر مزید بلند ہوا۔اکیس گھنٹے ضائع نہیں ہوئے۔ ان اکیس گھنٹوں میں خاموشی ٹوٹی۔ فاصلے کم ہوئے۔ لہجے بدلے اور اعتماد کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔یہ مرحلہ کسی انجام کی علامت نہیں بلکہ ایک مہذب توقف اور ایک تسلسل کا آغاز ہے۔ ہر خاموشی بدگمانی نہیں، مصلحت ہوتی ہے۔ یہ ایک نئے مکالمے کی تمہید ہے اور جب مکالمہ شروع ہو جائے تو راستے بند نہیں رہتے، وہ صرف وقت اور نیت مانگتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں