3

ہندوستان جان لے! ایسے نہیں چلے گا،تحریر:- عزیر احمد غزالی

ڈیلی پرل ویو: ریاست جموں کشمیر کوئی جغرافیائی تنازعہ نہیں یہ ایک انسانی المیے، سیاسی ناانصافی اور تاریخی جبر کی بدترین داستان ہے، جس کے ہر باب میں کشمیری عوام کی محرومیاں، جدائیاں اور قربانیاں ثبت ہیں۔ آج جب لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بٹے ہزاروں کشمیری خاندان اپنے پیاروں کے غم میں تڑپتے ہیں، بھارتی بندوقوں کے سائے میں خونی لکیر پر گر رہے کشمیری ماؤں، بہنوں، بچوں اور بزرگوں کے آنسوں دہلی کے ظالم سامراج کیخلاف اعلان بغاوت لکھ رہے ہوتے ہیں کیرن دریا کے آر پار کے غمناک مناظر محض جذباتی واقعات نہیں ہیں بلکہ ریاست کی تقسیم اور ہندوستانی جبر و استبداد کے خلاف ایک بڑے انقلاب کی نوید ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر واقع کیرن میں دریا کے کنارے راجہ لیاقت علی خان کی میت اور اس پار آزاد کشمیر میں اپنے بھائی پر نوحہ کناں بہنوں کے آنسو دراصل اس دیرینہ تنازع کے انسانی پہلو کو بے نقاب کرتے ہیں، جسے سیاسی بیانیوں اور سفارتی اصطلاحات میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ دکھ دینے والے مناظر اس تلخ حقیقت کا اظہار ہیں کہ کشمیر کی تقسیم صرف سرحدوں کی تقسیم نہیں بلکہ خاندانوں، رشتوں، انسانیت اور نسلوں کی تقسیم ہے جسے کشمیری عوام زیادہ دیر قبول نہیں کریں گے۔ بھارت نے 1947 کے فوجی قبضے کے بعد سے ریاست جموں کشمیر کے وسیع زمینی حصے، اس کی آبادی اور وسائل پر ناجائز فوجی قبضہ قائم کر کے ایک ایسے تنازع کو جنم دیا جو آج بھی جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کشمیری عوام نے صرف سیاسی محرومی نہیں بلکہ مسلسل ظلم، جبر، نقل مکانی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کیا ہے۔1947، 1965 اور 1971 سے جاری ریاستی جبر نے لاکھوں کشمیری خاندانوں کو ہجرت پر مجبور کیا۔ خونی لکیر کے آر پار بکھرے یہ خاندان آج بھی تقسیم کے اس زخم کے ساتھ زندہ ہیں۔ ان کی محرومیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ محض علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی سانحہ بھی ہے۔بھارت کی کشمیر پالیسی ہمیشہ عوامی حقِ خودارادیت کو دبانے اور فوجی طاقت کے ذریعے سیاسی حقائق تبدیل کرنے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر وسیع فوجی تعیناتی، خاردار تاریں، فوجی چوکیاں اور عسکری چھاؤنیاں صرف سرحدی انتظامات نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی نقل و حرکت، رشتوں اور آزادی پر پابندیوں کی علامت بن چکی ہیں۔ وادی کشمیر میں ہر گاؤں، ہر بستی اور ہر شہر پر مسلط بھارتی فوجی موجودگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ایک پوری آبادی مسلسل نگرانی اور جبر کے ماحول میں زندگی گزار رہی ہے۔پانچ اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے بھارت نے نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو چیلنج کیا بلکہ پوری مقبوضہ ریاست کو ایک کھلی جیل میں بدل دیا۔ دس لاکھ سے زائد قابض فوجیوں کی موجودگی میں ایک کروڑ تیس لاکھ کشمیریوں کی زندگی خوف، گھٹن اور غیر یقینی صورتحال میں گھری ہوئی ہے۔ہندوستان نے
UAPA،TADA،POTA،AFSPAاور PSAجیسے ظالمانہ قوانین کے تحت کشمیریوں کی سیاسی آواز کو دبایا دیا، آزادی اظہارِ رائے، اختلافِ رائے کو جرم قرار دیا گیا اور ہزاروں افراد کو جیلوں میں بند کیا گیا۔ یہ سب اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دلی سرکار مسئلہ کشمیر کو سیاسی مکالمے سے حل کرنے کے بجائے فوجی طاقت کے ذریعے قابو کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔مسئلہ کشمیر کا ایک اور سنگین پہلو یہ بھی ہے کہ ریاست کا اسلامی تشخص، غالب مسلم اکثریتی شناخت، کشمیری ثقافت اور تہذیب کو درپیش خطرات ہیں۔ دہلی کے زیرِ اثر مختلف ایجنسیز NIA, CIK،SIU آبادیاتی تبدیلیوں، زمینوں جائیدادوں پر قبضوں، مکانات کی مسمارگی اور آئینی و عدالتی اقدامات کے ذریعے کشمیر کی تاریخی شناخت کو بدلنے کی کوششیں تہذیبی جارحیت کی شکل میں کھلے عام جاری ہیں۔11 دسمبر 2023 کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی قیادت میں پانچ رکنی بنچ کے فیصلے جس عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ ریاست کو بھارت کا آئینی حصہ قرار دیا گیا تھا اس فیصلے کو کشمیری عوام نے اپنے سیاسی وجود کے خاتمے کے مترادف قرار دے کر مسترد کردیا۔ ایسے حالات میں کہ جب بھارت جموں کشمیر کو صفحے سے مٹانے کی سازشیں کر رہا ہے کشمیریوں کی ریاست گیر مزاحمت ہی انکی بقا، شناخت اور جموں کشمیر کو بچا سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اس انسانی المیے کو صرف ایک روایتی تنازع سمجھ کر نظر انداز کرتی رہے گی یا اسے انسانی حقوق، انصاف اور دائمی امن کے ایک بنیادی مسئلے کے طور پر دیکھے گی؟ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان موجود یہ سلگتا ہوا تنازع کسی بھی وقت بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، اس لیے اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔کشمیر کا حل فوجی طاقت، جبر یا یکطرفہ اقدامات میں نہیں، بلکہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے اعتراف میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ اصول ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادیں تسلیم کرتی ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جو خطے ”پاک و ہند“ میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔لائن آف کنٹرول پر بہن کے آنسو اور بھائی کی میت دراصل اس خاموش ریفرنڈم کی علامت ہیں جو دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ کشمیری عوام غلامی نہیں، آزادی چاہتے ہیں؛ جبر نہیں، انصاف چاہتے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے یہ مطالبات بالآخر طاقت سے نہیں، حق کے اعتراف سے پورے ہوتے ہیں۔جنوبی ایشیاء کے مستقل امن کے قیام کے لیے بھارت کو پاکستان کے کردار سے سبق سیکھنا چاہیئے پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے اور کشمیری عوام کو آزادانہ طور استصواب رائے دینے کی وکالت کی ہے۔ بھارت میں اگر رتی بھر جمہوری اور انسانی قدر باقی ہے تو وہ بھی ریاست جموں کشمیر میں رائے شماری کے سلامتی کونسل کے فیصلے اور کشمیری عوام کے مطالبے کو تسلیم کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں