ڈیلی پرل ویو،کسی بھی معاشرے کی شہ رگ اور اس کے مستقبل کی عمارت جن بنیادوں پر استوار ہوتی ہے، وہ اس کی نوجوان نسل ہے لیکن جب کسی قوم کی جڑوں میں کوئی زہر اتار دیا جائے، تو وہ بلند و بالا عمارت مٹی کے ڈھیر میں بدلتے دیر نہیں لگاتی۔ ”منشیات“ وہ خاموش قاتل ہے جو کسی گولی کی آواز پیدا کرتا ہے نہ کسی بم دھماکے کی طرح فوری تباہی دکھاتا ہے، لیکن یہ خاموشی سے پوری نسل کو ذہنی اور جسمانی طور پر اپاہج کر دیتا ہے۔ پاکستان اس وقت جس نازک نہج پر کھڑا ہے، وہاں ایک طرف ریاست کی بقا کی جنگ سرحدوں پر لڑی جا رہی ہے، تو دوسری طرف ایک اندرونی محاذ ہے جہاں ہماری نوجوان نسل کو (Ice)، ہیروئن اور چرس جیسی بلاؤں کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں لاہور سے کراچی تک منشیات فروشوں کے خلاف ہونے والی کارروائیاں اگرچہ امید کی ایک کرن ہیں، لیکن ان کے طریقہ کار اور نتائج نے ہمارے عدالتی، انتظامی اور پولیس نظام کے اندر چھپے تضادات کو ایک بار پھر برہنہ کر کے رکھ دیا ہے۔
پنجاب میں کچھ عرصے سے منشیات کے ناسور کے خلاف ایک سخت ”زیرو ٹالرنس“ پالیسی پر عمل درآمد ہورہا ہے۔ پنجاب پولیس نے ایک ایسا بے لچک رخ اختیار کیا ہوا ہے جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔ بڑے بڑے ڈیلرز اور موت کے بیوپاری جو کبھی قانون کی گرفت سے دور رہتے تھے، اب نہ صرف سلاخوں کے پیچھے جا رہے ہیں بلکہ پولیس مقابلوں کے دوران زخمی ہو کر عدالتوں میں بیساکھیوں کے سہارے پیش ہو رہے ہیں۔ یہ ایک واضح اور کڑا پیغام ہے کہ جو لوگ دوسروں کی نسلوں کو اپاہج کریں گے، قانون انہیں اپنے پیروں پر چلنے کے قابل نہیں چھوڑے گا۔ پنجاب کی عدالتوں میں بھی منشیات کے مقدمات، خاص طور پر “9 سی” (9-C) جیسے سخت قوانین کے تحت درج ایف آئی آرز میں ضمانتوں کے حوالے سے ایک سخت گیر رویہ اپنایا گیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ریاست کی مشینری اب اس کینسر کو مزید برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے، چاہے مجرم کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔
لیکن جیسے ہی ہم پنجاب کی سرحد عبور کرتے ہیں تو حالات یکسر مختلف ہو جاتے ہیں۔ حالیہ “انمول عرف پنکی” کیس نے قانون کی حاکمیت پر ایسے سوالات کھڑے کر دیے ہیں جن کا جواب ریاست کے لیے ناگزیر ہے۔ ایک ایسی خاتون جس کا نام لاہور کے تھانہ کوٹ لکھپت میں درج منشیات کے مقدمے میں 2022 سے اشتہاری کے طور پر موجود ہے، جس کا اپنا بھائی ریاض بلوچ ڈیڑھ کلو سے زائد منشیات کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور جس نے اعتراف کیا کہ اس کی بہن ہی اس کالے دھندے کی اصل ماسٹر مائنڈ ہے، وہ کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں کس طرح دو سال تک آزادانہ گھومتی رہی؟ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ جب اسے گرفتار کیا گیا، تو وہ کسی مجرم کے بجائے ایک ”سلیبرٹی“ کی طرح فلمی انداز میں ویڈیوز بناتی، مسکراتی اور پولیس پروٹوکول کا مذاق اڑاتی نظر آئی۔ کیا یہ قانون کا تمسخر نہیں؟ کیا یہ ان ماؤں کے آنسوؤں کا مذاق نہیں جن کے جوان بیٹے منشیات کی بھینٹ چڑھ کر قبرستانوں کی رونق بن گئے؟
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اس معاملے پر فوری نوٹس لینا اس بات کی تصدیق ہے کہ دال میں صرف کچھ کالا نہیں، بلکہ یہاں تو پوری دال ہی کالی ہے۔ سینیٹر ثمینہ زہری کا یہ ریمارکس کہ ”وہ خاتون منشیات فروش ہونے کے باوجود سرعام پھر رہی تھی“، اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بااثر منشیات فروشوں کے ہاتھ قانون کے آہنی ہاتھوں سے بھی کہیں زیادہ لمبے ہیں۔ انمول پنکی صرف ایک انفرادی نام نہیں ہے، بلکہ یہ اس وسیع اور گہرے مافیا کا ایک مہرہ ہے جس کے تانے بانے شہر کے پوش علاقوں، عالی شان بنگلوں اور بدقسمتی سے بعض اعلیٰ سرکاری دفاتر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی کا یہ عزم کہ ”وہ جتنے بڑے افسر بھی ہوں، ان کے نمبر شیئر کریں، میں ان سب کو ری ہیب سینٹر بھجواؤں گا“، جہاں ایک طرف ڈوبتے کو تنکے کا سہارا دیتا ہے، وہاں دوسری طرف اس خوفناک حقیقت کو بھی عیاں کرتا ہے کہ منشیات کی سپلائی لائن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں معاشرے کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ جب محافظ ہی سہولت کار بن جائیں، تو پھر نسلوں کی تباہی کو کون روک سکتا ہے؟
ابھی انمول پنکی کا غبار بیٹھا ہی نہیں تھا کہ قائد آباد پولیس نے نرگس عرف ”ملکہ“ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ 60 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 35 کلو چرس کی برآمدگی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ کراچی کی گلیوں اور کوچوں میں موت کا زہر کتنی سہولت سے میسر ہے۔ ”ملکہ“ کا پوش علاقوں اور اندرونِ سندھ تک اپنا نیٹ ورک چلانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ کس قدر منظم اور مالی طور پر مستحکم ہیں لیکن یہاں بھی وہی پرانا اور چبھتا ہوا سوال سر اٹھاتا ہے کہ کیا ”ملکہ“ کو بھی انمول پنکی جیسا شاہانہ پروٹوکول ملے گا؟ کیا نظام کی کمزوریاں اسے بھی قانون کے شکنجے سے فرار کا راستہ فراہم کر دیں گی؟ کیا وہ بھی چند دنوں بعد کسی نئی ”فلمی ویڈیو“ میں قانون کا مذاق اڑاتی پائی جائے گی؟
پنجاب اور سندھ کے درمیان قانون کے اطلاق کا یہ تضاد ایک قومی بحث کا متقاضی ہے۔ ایک طرف پنجاب میں منشیات فروش بیساکھیوں کے سہارے عدالت پہنچتے ہیں، تو دوسری طرف ”گلیمرائزڈ“ مجرم بن کر ابھرتے ہیں۔ قانون کا یہ دوہرا معیار کسی بھی ریاست کے سماجی ڈھانچے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ مجرم کو جب تک یہ یقین نہ ہو کہ ملک کے کسی بھی کونے میں اسے پناہ نہیں ملے گی اور اس کے پیچھے کھڑا کوئی بھی ”بڑا نام“ اسے بچا نہیں سکے گا، تب تک ہم اپنی نسلوں کو اس آگ سے نہیں نکال سکتے۔ مجرم کا کوئی صوبہ نہیں ہوتا، اس کی کوئی زبان نہیں ہوتی، اس کی صرف ایک پہچان ہوتی ہے کہ وہ انسانیت کا دشمن ہے۔منشیات کے خلاف یہ جنگ صرف وردی والوں کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ عدلیہ، پارلیمنٹ، میڈیا اور سول سوسائٹی کی مشترکہ جنگ ہے۔ اگر ایک صوبے میں قانون کی گرفت سخت ہوگی اور دوسرے میں لچکدار، تو مجرم ہمیشہ محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کریں گے اور ایک جگہ سے کریک ڈاؤن ہونے پر دوسری جگہ اپنا اڈہ قائم کر لیں گے۔ انمول پنکی اور نرگس ملکہ جیسے کرداروں کو نشانِ عبرت بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سینیٹ کمیٹی کو صرف نمبرز مانگنے یا بیانات دینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان درندوں اور سہولت کاروں کے چہروں سے نقاب نوچنا چاہیے جو ان عورتوں کو بطور ڈھال استعمال کر کے اپنا کالا دھندہ چمکاتے ہیں۔