2

پاکستان کا عالمی کردار۔ثالثی سے آگے،شاہد حامد

ڈیلی پرل ویو، (پاکستانی فوج کی داخلی سیاست میں ”بالادستی“ کوئی نئی بات نہیں ہے۔)
مارشل لا 1958ء میں نافذ کیا گیا، لیکن ہمارے ہائبرڈ نظام کی بنیاد اس سے بھی پہلے 1954ء میں پڑ چکی تھی، جب اُس وقت کے آرمی چیف جنرل ایوب خان کو وزیر دفاع بھی بنا دیا گیا۔ اس تقرری کی وجہ سے وزارتِ دفاع کے ذریعے مسلح افواج پر سویلین کنٹرول ختم ہو گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس وزارت کے اہم عہدوں پر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی تعینات کیے جاتے رہے۔ مذکورہ تقرری کے ساتھ پاکستان نے علاقائی دفاعی معاہدوں، یعنی سیٹو اور سینٹو میں شمولیت اختیار کر لی، جن میں امریکہ ایک طاقتور فریق تھا۔ پاکستان کو بڑی تعداد میں فوجی امداد، خصوصاً ٹینک ملنا شروع ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں جی ایچ کیو اور پینٹاگون کے درمیان ایک براہِ راست تعلق قائم ہوا جو آج تک برقرار ہے۔یہ تعلق ہمارے دفترِ خارجہ اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے روایتی تعلقات سے ہٹ کر ہے۔
اگست 1998ء میں، جب امریکہ نے بحیرہئ عرب میں موجود اپنی آبدوزوں سے اسامہ بن لادن کے افغانستان میں قائم کیمپ پر میزائل داغے، تو پاکستان کے وزیر خارجہ، وزیر اعظم اور صدر میں سے کسی کو بھی پیشگی اطلاع نہ تھی۔ صرف آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو پینٹاگون کے ایک اعلیٰ جنرل نے اس کارروائی سے آگاہ کیا، وہ بھی اْس وقت جب میزائل چند لمحوں بعد پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والے تھے۔اسی طرح جب جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر 1999ء میں بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا، تو انہوں نے وائٹ ہاؤس یا امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بجائے سب سے پہلے جس امریکی عہدیدار سے رابطہ کیا، وہ سینٹ کام کے کمانڈر جنرل انتھونی زِنی تھے۔ہمارے بعض حاضر سروس افسران امریکی فوجی تنصیبات میں تربیت حاصل کرتے ہیں، جبکہ اُن کے بعض افسران ہماری تنصیبات میں تربیت لیتے ہیں۔یہ روابط مسلسل قائم رہتے ہیں۔اب جی ایچ کیو اور پینٹاگون کے درمیان تعلق بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جہاں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان براہِ راست اعلیٰ سطحی روابط قائم ہیں۔اس پیش رفت کے ہماری داخلی سیاست پر اثرات کو سمجھنے کے لیے چند اعداد و شمار پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ہماری مسلح افواج کی مجموعی نفری تقریباً 660,000 ہے، جس میں 560,000 پاکستان آرمی کے اہلکار ہیں اور افسران کی تعداد تقریباً 33,000 ہے۔ اعلیٰ سطحی قیادت میں، فیلڈ مارشل کے علاوہ، 30 لیفٹیننٹ جنرل، 180 سے زائد میجر جنرل، اور (ممکنہ طور پر) 800 بریگیڈیئر شامل ہیں۔نیم فوجی دستوں کی تعداد تقریباً 185,000 ہے، جو کہ ملک بھر میں تعینات ہیں۔ سویلین نظام کی تخمینی افرادی قوت تقریباً 32 لاکھ ہے، جن میں 10 لاکھ وفاقی حکومت کے ڈویژنز اور خودمختار اداروں میں شامل ہیں، جبکہ باقی صوبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان میں سے 95 فیصد سے زائد ملازمین نان گزیٹڈ یعنی گریڈ 1 سے 16 میں ہیں۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران،جو درجہ بندی کے اعتبار سے بریگیڈیئرز اور جنرلز کے مساوی سمجھے جا سکتے ہیں، ان کی تعداد تقریباً 2,000 ہے۔
پاکستان کا فعال نظامِ حکومت عملاً مسلح افواج کے ایک ہزار سے کچھ زائد سینئر افسران اور سویلین بیوروکریسی کے تقریباً دو ہزار ہم پلہ افسران کے ہاتھ میں ہے، مگر دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔مسلح افواج ایک سخت نظم و ضبط پر مبنی کمانڈ ڈھانچے کے تحت کام کرتی ہیں، جس کی سربراہی فیلڈ مارشل عاصم منیر کرتے ہیں،جو تینوں افواج اور سٹرٹیجک فورسز کے سربراہ ہیں۔پاکستان میں پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیاں، اعلیٰ عدالتوں کے تقریباً 200 جج مسلح افواج کے معاملات میں دخل اندازی کا اختیار نہیں رکھتے۔ افواجِ پاکستان اپنی بات ایک آواز میں صرف آئی ایس پی آر کے ذریعے ہی سب کے سامنے رکھتی ہیں۔ دوسری طرف سویلین بیوروکریسی پر اختیار وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سمیت متعدد حلقوں کے درمیان بٹا ہوا ہے، یہ نظام قانون ساز اور عدالتی نگرانی کے تابع بھی رہتا ہے، جو بعض اوقات مفید ثابت ہوتا ہے اور بعض اوقات نہیں۔اس سے بلا شبہ فیصلہ سازی اور عملدرآمد میں تاخیر پید ہوتی ہے اور کارکردگی میں یکسانیت بھی نظر نہیں آتی۔
فوج کو درپیش بنیادی داخلی مسئلہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد سرگرمیاں ہیں، جنہیں مصنف کے مطابق بھارت کی پشت پناہی اور افغانستان کی معاونت حاصل ہے۔ گزشتہ مئی بھارت کے ساتھ کشیدگی/ تنازع میں کامیابی کے بعد آرمی اور فضائیہ کی ملک میں مقبولیت اور بیرونی وقار میں نمایاں اضافہ ہوا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کو آپریشن ”بنیان المرصوص“ کے کمانڈر کے طور پر جو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی،امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں اُن کے نمایاں کردار نے اسے مزید جِلا بخشی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ فوج اور آرمی چیف کے اس وسیع پیمانے پر سراہے گئے کردار کے نتیجے میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو زیادہ عوامی تائید، اعتماد اور عملی تعاون میسر آئے گا، خصوصاً ایسے مرحلے پر جب اپوزیشن جماعتیں بھی ابتدائی امن عمل کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں۔اس ضمن میں خاص اہمیت خیبرپختونخوا کی حکومت کے رویّے اور پالیسیوں کو حاصل ہوگی۔ وزیراعظم، وزیر خارجہ اور ہمارے دفترِ خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی ان مذاکرات کے انعقاد میں شریک کردار ہیں، تاہم اس تاریخی کامیابی کا سویلین انتظامیہ کو درپیش داخلی مسائل پر غالباًکوئی نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔ ان مسائل میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری (خصوصاً نوجوانوں میں)، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ، نیز صحت اور تعلیم کی محدود سہولیات شامل ہیں۔جب صورتِ حال یہ ہو کہ غیر ترقیاتی بجٹ اخراجات کے لئے بھی وسائل مہیا کرنا دشوار ہو اور نجی شعبے کی سرگرمیوں میں سست روی پائی جائے،جو ہماری چھ کروڑ 50 لاکھ افرادی قوت میں سے 93 فیصد کو روزگار فراہم کرتا ہے تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک حاصل ہونے والی یہ پذیرائی ان مسائل کے حل یا کمی میں کس طرح مددگار ثابت ہوگی۔البتہ اگر اس کے نتیجے میں ملک کے اندر معاشی و سیاسی استحکام میں اضافہ ہو اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بڑے مواقع پیدا ہوں، تو کسی حد تک بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔
نومبر 2022ء میں، جب جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائر ہو رہے تھے، اْس وقت سب سے سینئر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر تھے۔ اْن کے پاس فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی اور چیف آف آرمی اسٹاف کے تقرر کے لئے درکار تجربہ بھی تھا۔اگرچہ یہ عمل ایک ہی نوٹیفکیشن کے ذریعے مکمل ہوتا ہے مگر اس کے دو الگ حصے ہیں، پہلا حصہ لیفٹیننٹ جنرل سے فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی ہے۔ یہ وزیرِ اعظم کے صوابدیدی اختیارات میں شامل ہے اور اس کے لئے صدر کی منظوری ضروری نہیں۔دوسرا حصہ ترقی پانے والے جنرل کو آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت وزیر اعظم کے مشورے پر صدرِ مملکت کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف مقرر کرنا ہے۔ عارف علوی نے اُن کے آرمی چیف کے تقرر کے نوٹیفکیشن پر اْس وقت دستخط کیے جب یہ واضح کر دیا گیا کہ وہ اس ترقی کو مؤخر کر سکتے ہیں اور نہ ہی روک سکتے ہیں۔نومبر 2024ء میں جنرل عاصم منیر کی مدتِ ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی۔ مئی 2025ء میں اُن کی کمان میں آپریشن ”بنیان المرصوص“ کی کامیابی کے بعد انہیں فیلڈ مارشل بنا دیا گیا۔انہوں نے شہباز شریف کے ساتھ مل کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی اپیل پر مثبت ردِعمل دیا۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے فیلڈ مارشل کو وائٹ ہاوس میں ظہرانے کی دعوت دی، جبکہ ہمارے وزیراعظم کو غزہ امن کانفرنس شرم الشیخ میں خطاب کی دعوت دی گئی، جس سے دونوں کی بین الاقوامی حیثیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بھارت نے صدر ٹرمپ کے کردار کی تردید کی اور مصنف کے مطابق اس کی قیمت بھی ادا کرتا رہا۔ اس کے بعد نومبر 2025ء میں آئین میں 27ویں ترمیم کی گئی، جس کے تحت فیلڈ مارشل کو قومی ہیرو اور بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز قرار دیا گیا اور طے پایا کہ قومی اسٹریٹجک فورسز کے کمانڈر کی تقرری وزیر اعظم اْن کی سفارش پر کریں گے۔دسمبر 2025ء میں فیلڈ مارشل کی مدتِ ملازمت میں توسیع کرتے ہوئے اسے 2030ء کے اختتام تک بڑھا دیا گیا۔
یہ وہ پس منظر ہے جس میں امریکہ نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مشترکہ ثالثی کی کوشش کو قبول کیا۔ ایران کا ردِعمل تو اس سے بھی زیادہ پْرجوش تھا۔عالمی سطح پر اس پیش رفت کا اثر یہ سامنے آیا کہ پاکستان کو ایک ایسی اہم عالمی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی آواز بین الاقوامی معاملات میں وزن رکھتی ہے اور جسے قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔تاہم اس پذیرائی کا تسلسل اس امر پر منحصر ہوگا کہ ہم اپنے داخلی مسائل کو کس حد تک مؤثر انداز میں حل کرتے ہیں اور قومی سطح پر اندرونی ہم آہنگی کو کیسے برقرار رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں